ملفوظات (جلد 5) — Page 308
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٣٠٨ جلد پنجم اور بسط ہوا کرتی ہے جو حالت تمہاری میرے پاس ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو پھر فرشتے تم سے مصافحہ کریں ۔ تو اب دورنگی دیکھو کہ صحابہ کرام اس نفاق اور دو رنگی سے کس قدر ڈرتے تھے۔ جب انسان جرات اور دلیری سے زبان کھولتا ہے تو وہ بھی منافق ہوتا ہے۔ دین کی ہتک ہوتی سنے اور وہاں کی مجلس نہ چھوڑے یا ان کو جواب نہ دے تب بھی منافق ہوتا ہے۔ اگر مومن کی سی غیرت اور استقامت نہ ہو تب بھی منافق ہوتا ہے جب تک انسان ہر حال میں خدا کو یاد نہ کرے تب تک نفاق سے خالی نہ ہوگا اور یہ حالت تم کو بذریعہ دعا کے حاصل ہوگی ۔ ہمیشہ دعا کرو کہ خدا اس سے بچاوے۔ جوانسان داخل سلسلہ ہو کر پھر بھی دو رنگی اختیار کرتا ہے تو وہ اس سلسلہ سے دور رہتا ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے منافقوں کی جگہ اسفل السافلین رکھی ہے کیونکہ ان میں دو رنگی ہوتی ہے اور کافروں میں یک رنگی ہوتی ہے۔ گریہ وزاری کی اہمیت صوفیوں نے لکھاہے کہ اگر چالیس دن تک رونا نہ آوے تو جانو کہ دل سخت ہو گیا ہے۔ خدا فرماتا ہے فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وليَبْلُوا كَثِيرًا ( التوبة : ۸۲) کہ ہنسو تھوڑا اور روؤ بہت مگر اس کے برعکس دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ہنستے بہت ہیں ۔ اب دیکھو کہ زمانہ کی کیا حالت ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں کہ انسان ہر وقت آنکھوں سے آنسو بہاتا رہے بلکہ جس کا دل اندر سے رو رہا ہے وہی روتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ دروازہ بند کر کے اندر بیٹھ کر خشوع اور خضوع سے دعا میں مشغول ہو اور بالکل عجز و نیاز سے خدا کے آستانہ پرگر پڑے تا کہ وہ اس آیت کے نیچے نہ آوے جو بہت ہنستا ہے وہ مومن نہیں ۔ اگر سارے دن کا نفس کا محاسبہ کیا جاوے تو معلوم ہو کہ ہنسی اور تمسخر کی میزان زیادہ ہے اور رونے کی بہت کم ہے۔ بلکہ اکثر جگہ بالکل ہی نہیں ہے۔ اب دیکھو کہ زندگی کس قدر غفلت میں گذر رہی ہے اور ایمان کی راہ کس قدر مشکل ہے گویا ایک طرح سے مرنا ہے اور اصل میں اسی کا نام ایمان ہے ۔