ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 201

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۱ جلد پنجم ہے۔ نماز روزہ وغیرہ سب لحاظ داری ہے ۔ حقیقی نیکی کو لوگ جانتے نہیں کہ کیا تھے ہے۔ خدا کے خوف سے کسی شے کو ترک کرنا یا لینا بالکل جاتا رہا ہے۔ غرضیکہ اس وقت بڑی بحث آ پڑی ہے۔ اگر خدا تعالیٰ مدد نہ کرے اور نشانات نہ دکھلائے تو پھر دہر یہ کو فتح حاصل ہوتی ہے اور اس وقت صرف اس کی ہستی کا ثبوت ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کی غیرت کے ثبوت کی بھی ضرورت ہے۔ بعض لوگ تو نو گاڈ کہہ رہے ہیں بعض اس کے لیے ایک بیٹا تجویز کر رہے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی ایسی ضرورت آپڑی تھی۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے وقت کہا کہ اگر تو اس جماعت کو ہلاک کر دے گا تو پھر تیری پرستش کرنے والا دنیا میں کوئی نہ رہے گا۔ یہی حال اس وقت ہے۔ پس اگر مہدی اور مسیح کا یہ زمانہ نہیں تو اور کس وقت کا انتظار ہے۔ آنے والے نے تو صدی کے سر پر آنا تھا۔ اب میں سال سے بھی زیادہ گذر گئے ۔ زمانہ کی موجودہ حالت سے پتا لگتا ہے کہ اب آخری فیصلہ خدا تعالیٰ کا ہے۔ ۱ار جولائی ۱۹۰۳ء (در بار شام) له ع عیب سے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو تمباکو حتمباکو کے مضرات پر ایک مختصر مضمون پڑھا گیا۔ ہے جس میں کل امراض کو مبارک کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا اور تمباکو کی مذمت میں بہت مبالغہ کیا گیا تھا۔ اس کو سن کر حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی کلام اور مخلوق کی کلام میں کس قدر فرق ہوتا ہے کے شراب کے مضار اگر بیان کئے ہیں البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۰۳، ۲۰۴ البدر میں ہے۔ تمباکو کے مضرات کے متعلق ایک انگریزی ٹریکٹ مجلس میں پڑھا جا رہا تھا ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۰۹) سے البدر میں ہے۔ ”خدا تعالیٰ اگر کسی شے کے نقصانات بیان کرتا ہے تو ساتھ ہی منافع بھی بیان کرتا ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۹)