ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 200

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۰ جلد پنجم مسیح کی قوم یہود تو آپ کے بھائی ہی تھے۔ مسیح بھی تو رات کو مانتے تھے مگر پھر بھی ذراسی بات پر اس قدر مخالفت ہوئی کہ انہوں نے سولی پر چڑھایا اور ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاں دشمن اور پھر کامیابی پر کامیابی ملی حتی کہ آپ کے خلفاء کو بھی کامیابی ہوئی ۔ ور جولائی ۱۹۰۳ء (دربار شام) او بعض عیسائی اخباروں نے مسیح کی قبر واقعہ کشمیر کے متعلق ظاہر کیا ہے کہ یہ قبر قبر سیح علیہ السلام مسیح کی نہیں بلکہ ان کے کسی حواری کی ہے۔ اس تذکرہ پر آپ نے فرمایا کہ اب تو ان لوگوں نے خود اقرار کر لیا ہے کہ اس قبر کے ساتھ مسیح کا تعلق ضرور ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے کسی حواری کی ہے اور ہم کہتے ہیں کہ مسیح کی ہے۔ اب اس قبر کے متعلق یہ تاریخی صحیح شہادت ہے کہ وہ شخص جو اس میں مدفون ہے وہ شہزادہ نبی تھا اور قریباً انیس سو برس سے مدفون ہے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ یہ شخص مسیح کا حواری تھا اب ان پر ہی سوال ہوتا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ ثابت کریں کہ مسیح کا کوئی حواری شہزادہ نبی کے نام سے بھی مشہور تھا اور وہ اس طرف آیا تھا اور یہ یقیناً ثابت نہیں ہو سکتا۔ پس اس صورت میں بجز اس بات کے ماننے کہ یہ مسیح علیہ السلام کی ہی قبر ہے اور کوئی چارہ نہیں ۔ ہے ۰ ارجولائی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) نشانات کی ضرورت پر فرمایا کہ نشانات کی ضرورت اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے ورنہ دیکھا جاتا ہے کہ اس وقت کیا ہو رہا (بقیہ حاشیہ ) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاملِ حال کس طرح تائیدات الہیہ رہیں ۔ دنیا ہو یا آخرت خدا کے فضل شامل حال ہونا صداقت کی بڑی دلیل ہے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ صفحه ۲۰۳) الحکم جلدے نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱،۱۰ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ۱ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹