ملفوظات (جلد 5) — Page 202
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۲ جلد پنجم تو اس کا نفع بھی بتا دیا ہے اور پھر اس کو روکنے کے لیے یہ فیصلہ کر دیا کہ اس کا ضرر نفع سے بڑھ کر ہے۔ دراصل کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس میں کوئی نہ کوئی نفع نہ ہو مگر مخلوق کے کلام کی یہی حالت ہوتی ہے۔اب دیکھ لو۔ اس نے اس کے مضرات ہی مضرات بتائے ہیں ۔ کسی ایک نفع کا بھی ذکر نہیں کیا۔ تمباکو کے بارے میں اگر چہ شریعت نے کچھ نہیں بتایا لیکن ہم اس کو مکر وہ جانتے ہیں اور ہم یقین کرتے ہیں کہ اگر یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوتا تو آپ نہ اپنے لیے اور نہ اپنے صحابہ کے لیے کبھی اس کو تجویز کرتے بلکہ منع کرتے۔ فرمایا کہ غربا نے دین کا بہت بڑا حصہ لیا ہے غریب کو بد قسمت نہیں سمجھنا چاہیے بہت ساری باتیں ایسی ہوتی ہے جن سے امراء ہے۔ محروم رہ جاتے ہیں وہ پہلے توفسق و فجور اور ظلم میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں صلاحیت تقویٰی اور نیاز مندی غربا کے حصہ میں ہوتی ہے پس غربا کے گروہ کو بدقسمت خیال نہیں کرنا چاہیے بلکہ سعادت اور خدا کے فضل کا بہت بڑا حصہ اس کو ملتا ہے۔ کے یا درکھو حقوق کی دو قسمیں ہیں ایک حق اللہ دوسرے حق العباد۔ حق اللہ میں بھی امراء کو دقت پیش آتی ہے سے اور تکبر اور خود پسندی ان کو محروم کر دیتی ہے مثلاً نماز کے وقت ایک غریب کے پاس کھڑا ہونا برائے معلوم ہوتا ہے۔ ان کو اپنے پاس بٹھا نہیں سکتے اور اس طرح پر وہ حق اللہ سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ مساجد تو دراصل بیت المساکین ہوتی ہیں ۔ اور وہ سے رہ بیت ۔ ل البدر میں ہے۔ لیکن مخلوق کی کلام کو دیکھو کہ نقصانات کے بیان کرنے میں کس قدر مبالغہ کیا ہے اور تمباکو کے نفع کا نام تک بھی نہیں لیا۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۹) البدر میں ہے۔ خدا کے ان پر بڑے فضل اور اکرام ہیں ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۰۹) سے البدر میں ہے ۔ ”حق اللہ میں بھی امرا ء لوگ ہنسی اختیار کرتے ہیں ۔“ دو 66 ے البدر میں ہے ۔ عار معلوم ہوتا ہے ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۹) البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۰۹)