ملفوظات (جلد 5) — Page 194
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۴ جلد پنجم چندے کی ابتدا اس سلسلہ سے ہی نہیں ہے۔ بلکہ مالی ضرورتوں کے وقت نبیوں کے زمانہ میں بھی چندے جمع کئے گئے تھے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ ذرا چندے کا اشارہ ہوا تو تمام گھر کا مال لا کر سامنے رکھ دیا۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسب مقدور کچھ دینا چاہیے اور آپ کی منشا تھی کہ دیکھا جاوے کہ کون کس قدر لاتا ہے ۔ا! ندر لاتا ہے۔ ابوبکر نے سارا مال لا کر سامنے رکھ دیا اور حضرت عمر نے نصف مال ۔ آپ نے فرمایا کہ یہی فر یہی فرق تمہارے مدارج میں ہے اور ایک آج کا زمانہ ہے کہ کوئی جانتا ہی نہیں کہ مدد دینی بھی ضروری ہے۔ حالانکہ اپنی گذران عمدہ رکھتے ہیں ان کے برخلاف ہندوؤں وغیرہ کو دیکھو کہ کئی کئی لاکھ چندہ جمع کر کے کارخانہ چلاتے ہیں ( اور بڑی بڑی مذہبی عمارات بناتے اور دیگر موقعوں پر صرف کرتے ہیں ) حالانکہ یہاں تو بہت ہلکے چندے ہیں ۔ پس اگر کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو اسے خارج کرنا چاہیے وہ منافق ہے اور اس کا دل سیاہ ہے۔ ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ ماہواری روپے ہی ضرور دو ہم تو یہ کہتے ہیں کہ معاہدہ کر کے دو جس میں کبھی فرق نہ آوے۔ صحابہ کرام کو پہلے یہی سکھایا گیا تھا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران: ۹۳) اس میں چندہ دینے اور مال صرف کرنے کی تاکید اور اشارہ ہے۔ یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاہدے ہوتے ہیں اس کو نبھانا چاہیے ۔ ان کے برخلاف کرنے میں خیانت ہوا کرتی ہے ۔ کوئی کسی ادنیٰ درجہ کے نواب کی خیانت کر کے اس کے سامنے نہیں ہو سکتا تو پھر احکم الحاکمین کی خیانت کر کے کس طرح اسے اپنا چہرہ دکھلا سکتا ہے۔ ایک آدمی سے کچھ نہیں ہوتا۔ جمہوری امداد میں برکت ہوا کرتی ہے۔ بڑی بڑی سلطنتیں بھی آخر چندوں پر ہی چلتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیاوی سلطنتیں زور سے ٹیکس وغیرہ لگا کر وصول کرتے ہیں ۔ اور یہاں ہم رضا اور ارادہ پر چھوڑتے ہیں۔ چندہ دینے سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور یہ محبت اور اخلاص کا کام ہے۔ - پس ضرور ہے کہ ہزار درہ ہزار آدمی جو بیعت کرتے ہیں ان کو کہا جاوے کہ اپنے نفس پر کچھ مقرر او کریں اور اس میں پھر غفلت نہ ہو۔ کے البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ / جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۰۱، ۲۰۲