ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 195 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 195

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۵ جلد پنجم ۶ جولائی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ طاعون کا عذاب اس بات کو سوچنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ پورا ہونے والا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قتل کے عذاب کا وعدہ دیا گیا تھا حالانکہ صحابہ بھی قتل ہوتے تھے لیکن وہی قتل کفار کے لیے عذاب کا حکم رکھتا تھا اور مسلمانوں کے لیے شہادت کا۔ عذاب کا معیار یہی ہے کہ انسان دیکھے کہ کون سا فریق زیادہ تباہ ہو رہا ہے آیا موافق یا مخالف ۔ پس جو زیادہ تباہ ہوتا ہوان کے لیے عذاب ہے۔ اسی طریق سے آج کل مقابلہ کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے طاعون کو عذاب کے طور پر بھیجا ہے۔ اس میں دیکھنے والی یہ بات ہے کہ آیا ہماری جماعت کے لوگ زیادہ مرتے ہیں یا مخالف ؟ پھر خود ہی معلوم ہو جاوے گا کہ اس عذاب نے کن کو نیست و نابود کر دیا۔ اگر ہماری جماعت کے بھی بعض فوت ہو جاتے ہیں تو اس میں حرج نہیں ہے کیونکہ صحابہ بھی جنگوں میں قتل ہوتے ہی تھے۔ ہاں البتہ ایسے آدمی جن سے شماتت اعدا ہو سکے بچائے جاویں گے جب بدر اور اُحد کی لڑائیاں ہوتی تھیں تو کوئی سمجھتا تھا کہ امیر فارق کیا ہے؟ کبھی ان کو فتح ہوتی کبھی صحابہؓ کو۔ تاہم بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ اعجازی طور پر مرنے سے بچالیتا ہے۔ دیکھو ابو بکر اور عمر کو لڑائیوں میں بچالیا۔ اس کا نام اعجاز ہوتا ہے ورنہ موت تو ہر ایک کے لیے ہے۔ فرمایا که موعود وہ ہے جس کا ذکر مِنْکُم میں ہے جیسے کہ فرماتا ہے وَعَدَ اللهُ موعود کون ہے ہے الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَتِ الخ ( النور : ۵۶ ) ور نہ اس طرح خواه صد ہا مسیح آویں اور کسی امت کے ہوں مگر وہ موعود نہ ہوویں گے کیونکہ وہ مِنكُم سے باہر ہوں گے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ مِنكُم کا ہے پھر باہر سے آنے والا کیسے موعود ہو سکتا ہے؟ ل البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۰۲