ملفوظات (جلد 5) — Page 193
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۳ جلد پنجم چیزوں پر ہی کئی کئی پیسے خرچ کر دیتا ہے تو پھر یہاں اگر ایک ایک پیسہ دے دیوے تو کیا حرج ہے؟ خوراک کے لیے خرچ ہوتا ہے، لباس کے لیے خرچ ہوتا ہے اور ضرورتوں پر خرچ ہوتا ہے تو کیا دین کے لیے ہی مال خرچ کرنا گراں گزرتا ہے؟ دیکھا گیا ہے کہ ان چند دنوں میں صد ہا آدمیوں نے بیعت کی ہے مگر افسوس ہے کہ کسی نے ان کو کہا بھی نہیں کہ یہاں چندوں کی ضرورت ہے۔ خدمت کرنی بہت مفید ہوتی ہے جس قدر کوئی خدمت کرتا ہے اس قدر وہ راسخ الایمان ہو جاتا ہے اور جو کبھی خدمت نہیں کرتے ہمیں تو ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے۔ چاہیے کہ ہماری جماعت کا ہر ایک متنفس عہد کرے کہ میں اتنا چندہ دیا کروں گا کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے عہد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں برکت دیتا ہے اس دفعہ تبلیغ کے لیے جو بڑا بھاری سفر کیا جاوے تو اس میں ایک رجسٹر بھی ہمراہ رکھا جاوے جہاں کوئی بیعت کرنا چاہے اس کا نام اور چندہ کا عہد درج رجسٹر کیا جاوے اور ہر ایک آدمی کو چاہیے کہ دو عہد کرے کہ مدرسہ میں اس قدر چندہ دیوے گا اور لنگر خانہ میں اس قدر ۔ بہت لوگ ایسے ہیں کہ جن کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ چندہ بھی جمع ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ اگر تم سچا تعلق رکھتے ہو تو خدا تعالیٰ سے پکا عہد کر لو کہ اس قدر چندہ ضرور دیا دیا کروں گا اور نا واقف لوگوں کو یہ بھی سمجھا یا جاوے کہ وہ پوری تابعداری کریں۔ اگر وہ اتنا عہد بھی نہیں کر سکتے تو پھر یا جماعت میں شامل ہونے کا کیا فائدہ؟ نہایت درجہ کا بخیل اگر ایک کوڑی بھی روزانہ اپنے مال میں سے چندے کے لیے الگ کرے تو وہ بھی بہت کچھ دے سکتا ہے ایک ایک قطرہ سے دریا بن جاتا ہے اگر کوئی چار روٹی کھاتا ہے تو اسے چاہیے کہ ایک روٹی کی مقدار اس میں سے اس سلسلہ کے لیے بھی الگ کر رکھے اور نفس کو عادت ڈالے کہ ایسے کاموں کے لیے اس طرح سے نکالا کرے۔ (بقیہ حاشیہ ) جاتیں اور یہ زمانہ جانوں کے دینے کا نہیں بلکہ فقط مالوں کے بقدر استطاعت خرچ کرنے کا ہے۔ اس لیے ہر ایک شخص تھوڑا تھوڑا جو وہ لنگر اور مدرسہ اور دیگر ضروری مڈوں میں دے سکتا ہے دے۔ وہ آدمی جو تھوڑا تھوڑا چندہ دے مگر باقاعدہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ دے مگر گا ہے دے۔“ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحه ۸ )