ملفوظات (جلد 5) — Page 190
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۰ جلد پنجم جناب مولانا حکیم نور الدین صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ احادیث میں کہیں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ نہیں؟ حکیم صاحب نے عرض کی کہ لکھا ہے کہ خالد بن ولید جب کبھی جنگوں میں جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک جو کہ آپ کی پگڑی میں بندھے ہوتے آ۔ رتے آگے کی طرف لڑکا لیتے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف کے ایک دفعہ صبح کے وقت سارا سر منڈوایا تھا تو آپ نے نصف سر کے بال ایک خاص شخص کو دے دیئے اور نصف سر کے بال باقی اصحاب میں بانٹ دیئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جبہ مبارک کو دھو دھو کر مریضوں کو بھی پلاتے تھے کے اور مریض اس سے شفا یاب ہوتے تھے ۔ ایک عورت نے ایک دفعہ آپ کا پسینہ بھی جمع کیا یہ تمام اذکار سن کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ پھر اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ بہر حال اس میں کچھ بات ضرور ہے جو خالی از فائدہ نہیں ہے اور تعویذ وغیرہ کی اصل بھی اس سے نکلتی ہے۔ بال لٹکائے تو کیا اور تعویذ باندھا تو کیا میرے الہام میں جو ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ آخر کچھ تو ہے تبھی وہ برکت ڈھونڈیں گے مگر ان تمام باتوں میں تقاضائے محبت کا بھی دخل ہے۔ عظیم الشان انسانوں کے صغائر پر نظر کرنے کا ذکر ہوا۔ فرمایا کہ صدق و وفا میں جو عظیم الشان انسان ہوتے ہیں ان کے صغائر کا ذکر کرنے سے سلپ ایمان ہو جاتا ہے۔ خدا تو ان صغائر کو فوکر دیتا ہے اور ان کے کارناموں کی عظمت اس قدر ہوتی ہے کہ 66 لے معلوم ہوتا ہے یہ لفظ صرف“ نہیں بلکہ ”جب ہے۔ جو طباعت کی غلطی کی وجہ سے صرف چھپ گیا ہے چنانچہ الحکم میں جب ہی لکھا ہے۔ الحکم میں ہے۔ ” جب ایک دفعہ آنحضرت نے سر منڈوایا تو آدھے سر کے کٹے ہوئے بال ایک شخص کو دے دیئے اور آدھے دوسرے حصہ کے باقی اصحاب کو بانٹ دیئے ۔“ 66 الحکم جلد ۷ نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰) الحکم میں ہے۔ ” آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات جبہ شریف دھو کر مریضوں کو بھی پلایا کرتے تھے ۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۰)