ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 191

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۱ جلد پنجم اس کے مقابلہ میں صغائر کا ذکر کرتے ہی شرم آتی ہے اسی لیے وہ رفتہ رفتہ ایسے معدوم ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کا نام ونشان ہی نہیں رہتا۔ ۱۵ جولائی ۱۹۰۳ء ( مجلس قبل از عشاء ) فرمایا کہ تبلیغ کا طریق کتابوں کو شائع کرنا چاہیے تاکہ تلی ہو۔ دیکھا جاتا ہے کہ دہلی کے پرے بہت کم لوگوں کو ہمارے دعاوی کی خبر ہے۔ اس کا انتظام یوں ہونا چاہیے کہ ایک لمبا سفر کیا جاوے اور اس میں یہ تمام کتب جو کہ بہت ساذخیرہ پڑا ہوا ہے تقسیم کی جاویں تا کہ تبلیغ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت سے سامان دیئے ہیں ان سے فائدہ نہ اٹھانا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار ہوتا ہے۔ ہمارے لیے ریل بنائی گئی ہے جس سے مہینوں کا سفر دنوں میں ہوتا ہے۔ اور قوم کو چاہیے کہ ہر طرح سے اس سلسلہ کی خدمت بجالا وے مالی طرح چندوں کی اہمیت پر بھی خدمت کی بجا آوری میں کوتاہی نہیں چاہیے۔ دیکھو دنیا میں کوئی سلسلہ بغیر چندہ کے نہیں چلتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت موسی اور حضرت عیسی سب رسولوں کے وقت چندے جمع کئے گئے پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے اگر یہ لوگ التزام سے ایک ایک پیسہ بھی سال بھر میں دیویں تو بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے ہاں اگر کوئی ایک پیسہ بھی نہیں دیتا تو اسے جماعت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہے البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ۱ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۰۱ الحکم سے ۔ ۵ جولائی ۱۹۰۳ ء در بار شام دو (اپنے الفاظ میں ) احمدی کون ہے؟ حضور علیہ السلام معمول کے موافق شانشین پر جلوس فرما ہوئے اور ذیل کی تقریرفرمائی ۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت میں چندہ دینے والے بہت تھوڑے ہیں ۔ آئے دن صدہا آدمی بیعت کر کے چلے جاتے ہیں لیکن دریافت کرنے پر بہت ہی کم تعداد ایسے اشخاص کی ہے جو متواتر ماہ بماہ چندہ دیتے ہیں ۔