ملفوظات (جلد 5) — Page 189
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۹ جلد پنجم خدا تک ہی ہے اور تھوڑی دور تک چل کر اسباب کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے اور صرف امر خالص کا مرتبہ رہ جاتا ہے کہ جسے کسی طرح ہم سبب کی طرف منسوب نہیں کر سکتے اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہی باقی رہ جاتی ہے اور اسباب بالکل منقطع ہو جاتا ہے۔ اسباب تو صرف چند قدموں تک ساتھ دیتا ہے اس کے بعد خدا تعالیٰ کی غیر مدرک اور غیر مرئی خالص قدرت ہوتی ہے یہ ایک ایسا پوشیدہ خزانہ ہے کہ جس کی حد اور انتہا ہی نہیں ہے اور ایسا دریا ہے کہ جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اور ایک ایسا دشت ہے کہ جو طے ہونے میں نہیں آتا۔ یہ کہنا کہ قدرت خالص اللہ تعالیٰ کی بے کار ہو جاتی ہے اور صرف اسباب رہ جاتے ہیں بڑی بے انصافی ہے ۔ کیا تم کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ خدا نے آدم اور عیسی کو کیسے پیدا کیا تھا ؟ اور موسی کے لیے کس طرح دریا کو شگاف کیا کہ جس سے موسی تو دریا سے سلامت گذر گئے اور فرعون غرق ہو گیا اب تم ہی جواب دو کہ وہ کون سی کشتی تھی جس پر بیٹھ کر موسی دریا سے گذرے۔ خدا تعالیٰ نے اس قصہ کو قرآن کریم میں بے فائدہ نہیں ذکر کیا ہے بلکہ اس میں بڑے بڑے معارف اور حقائق ہیں تا کہ تم کو اس بات کا علم ہو کہ اس پاک ذات اللہ تعالیٰ کی قدرت اسباب میں مقید نہیں ہے اور تمہارے ایمان ترقی کریں۔ آنکھیں کھلیں اور شکوک و شبہات رفع ہوں اور تم کو یہ شناخت حاصل ہو کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے کہ اس پر کسی قسم کا کوئی دروازہ مسدود نہیں ہے۔ اس کی قدرتوں کی کوئی انتہا نہیں ہے جو شخص اس کی وسعت قدرت سے منکر ہو کر اسباب کے احاطہ میں اسے انتہانہیں ہو کر مقید کرتا ہے تو مجھو کہ صدق کے مقام سے وہ گر پڑا پس اگر کوئی شخص حکم خداوندی سے اسباب کو ترک کرتا ہے تم اسے برا مت کہو اور خدا تعالیٰ کے قانون کو ایک تنگ و تاریک دائرہ میں محدود مت کرو۔ اے ۴ جولائی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) ایک شخص نے مسئلہ استفسار کیا کہ تعویذ کا باز و وغیرہ مقامات پر باندھنا اور تعویذ اور دم دم وغیرہ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ اصلوة والسلام دم الحکم جلدے نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ صفحه ا نیز البدر جلد ۲ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۹۳، ۱۹۴