ملفوظات (جلد 5) — Page 188
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۸ جلد پنجم لڑکیوں کے رشتے ابولہب سے لے کر دیئے تھے حالانکہ وہ مشرک تھا مگر اس وقت تک نکاح کے متعلق وحی کا نزول نہ ہوا تھا۔ چونکہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر تو حید غالب تھی اس لیے دخل نہ دیتے تھے اور قومیت کے لحاظ سے بعض امور کو سر انجام دیتے اس لیے ابولہب کو لڑ کی دے دی تھی ۔ رسول عالم الغیب ہوتا ہے کہ نہیں؟ اس پر فرمایا کہ رسول کو علم غیب نہیں ہوتا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم غیب ہوا تو آپے زینب کا نکاح زید سے نہ کرتے کیونکہ بعد کو جدائی نہ ہوتی اور اسی طرح ابولہب سے بھی رشتہ نہ کرتے ۔ میں ایک مرد ہوں کہ خدا میرے ساتھ گفتگو مسیح موعود علیہ السلام کا مقام ماموریت کرتا ہے اور اپنے خاص خزانہ سے مجھے تعلیم دیتا ہے اور اپنے ادب سے میری تادیب فرماتا ہے۔ وہ اپنی مجھ پر وحی بھیجتا ہے میں اس کی وحی کی پیروی کرتا ہوں ۔ ایسی صورت میں مجھے کون سی ایسی ضرورت ہے کہ میں اس کی راہ کو ترک کر کے دوسری متفرق راہیں اختیار کروں؟ جو کچھ آج تک میں نے کہا ہے اسی کے امر سے کہا ہے اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں ملایا۔ اور نہ اپنے خدا پر میں نے کوئی افترا باندھا ہے۔ مفتری کا انجام ہلاکت ہے پس اس کا روبار پر تعجب کرنے کا کون سا مقام ہے اس قادر مطلق خدا کے کاروبار پر تعجب نہ کرو کیونکہ اس نے تو زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اور کسی کو مجال نہیں کہ اس سے پوچھے کہ یہ کیا کیا۔ میرے پاس خدا تعالیٰ کی بہت سی شہادتیں ہیں ۔ اس نے میرے لیے بڑے بڑے نشان دکھلائے ہیں اور اس کی وحی کردہ غیبی خبروں میں جو اس نے مجھے دیں ایسے ایسے راز ہیں کہ انسان کی عقل کو ان تک رسائی نہیں ہے پس اس لیے چاہیے کہ طاعون کے بارے میں ہمارے ساتھ جھگڑانہ کریں اور اس شخص کی طرح نہ ہو وہیں جس کے دل کو خدا نے غافل کر دیا اور اس نے اپنے اسباب کو اپنا خدا قرار دے لیا۔ (کیا ان کو اس بات کی خبر نہیں ہے ) کہ ہر ایک سبب کا انتہا آخر کار ہمارے ے ابولہب کے گھر مراد ہے۔ (مرتب)