ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 187

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۷ جلد پنجم سوال ہوا کہ اگر آپ کو کوئی بڑا ایسی مجلس سے اُٹھ جانا چاہیے جہاں بڑا کہا جاتا ہو کے وہ کیسے بر کرسکتے ہیں؟ تو ہم فرمایا کہ جوش کے وقت اپنے آپ کو سنبھالنا چاہیے ۔ دُکھ تو ہوتا ہے مگر انسان ثواب پاتا ہے۔ اگر کوئی ہمیں برا کہتا ہو تو وہاں سے اُٹھ گئے یا الگ ہو گئے ۔ نہ سُنا کہ جس سے جوش آوے اور فساد ہووے۔ سوال ہوا کہ مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دیتے اور اس مسجد میں ہمارا حصہ ہے۔ فساد سے بچنا چاہیے فرمایا کہ سفید زمین پر ایک حد کر لی وہی مسجد ہو جاتی ہے مگر فساد اچھا نہیں۔ اگر تم دشمن سے بدلہ نہ لو اور اسے خدا کے حوالہ کر دو تو وہ خود نپٹ لیوے گا۔ دیکھو ایک بچہ کے دشمن کا مقابلہ ماں باپ کیا کرتے ہیں۔ اسی طرح جو خدا کے دروازہ پر گرتا ہے تو خدا خود اس کی رعایت کرتا ہے اور اسے ضرر دینے والے کو تباہ کر دیتا ہے۔ یکم جولائی ۱۹۰۳ء (دربار شام) ایک فقہی مسئلہ ایک لڑکی کے دو بھائی تھے اور ایک والدہ ۔ ایک بھائی اور والدہ ایک لڑکے کے ساتھ اس لڑکی کے نکاح کے لیے راضی تھے۔ مگر ایک بھائی مخالف تھا۔ وہ اور جگہ رشتہ پسند کرتا تھا اور لڑکی بھی بالغ تھی۔ اس کی نسبت مسئلہ دریافت کیا گیا کہ اس لڑکی کا نکاح کہاں کیا جاوے۔ حضرت اقدس نے دریافت کیا کہ وہ لڑکی کسی بھائی کی رائے سے اتفاق کرتی ہے؟ جواب دیا گیا کہ اپنے اس بھائی کے ساتھ جس کے ساتھ والدہ بھی متفق ہے۔ فرمایا کہ پھر وہاں ہی اس کا رشتہ ہو جہاں لڑکی اور اس کا بھائی دونوں متفق ہیں ۔ پھر نکاحوں پر ذکر چل پڑا کہ آنحضرت کا ابولہب کے لڑکوں سے رشتہ کرنا ہم حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ل البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۸۷