ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 186

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۶ جلد پنجم ۳۰ جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) چند ایک نو وارد احباب نے بیعت کی۔ ان میں سے چند ایک نے بیعت کے بنیادی لوازم عرض کی کہ حضرت جی ۔ ہم قرآن پڑھے ہو ۔ جی ۔ ہم ہوئے نہیں ہیں فرمایا کہ موٹے موٹے گناہوں کو تو جانتے ہو ان سے بچو۔ چوری نہ کرو، زنانہ کروہ ظلم نہ کرو، کسی کا مال یا زمین نہ دباؤ ، جھوٹ مت بولو، شرک مت کرو۔ حدیث شریف سے ثابت ہے کہ اَهْلُ الْجَنَّةِ بُلہ کہ جنت میں جانے والے سادے ہوتے ہیں۔ جو بہت پڑھے ہوئے ہیں اور عمل نہیں کرتے ان کی سخت مذمت کی گئی ہے اور ان پر خدا نے لعنت بھی کی تھی ۔ غریب لوگ پانصد برس پیشتر بہشت میں داخل ہوں گے۔ غریبی خوش قسمتی ہے۔ خدا کو پہچانو کہ جس کی طرف تم نے جانا ہے اور شرک سے پر ہیز کرو۔ اسباب پر بھروسہ کرنے سے بچو کہ یہ بھی ایک شرک ہے۔ جو آدمی چالاکی سے گناہ کرتا ہے اور باز نہیں آتا تو آخر خدا کا قہر ایک دن اسے ہلاک کرتا ہے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کے معنے یہی ہیں کہ خدا کے سوا اور کسی کی پوجا نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ اپنی عورتوں کو نصیحتیں کرو، رشوتیں نہ لو نہ دو، تکبر ، گھمنڈ، غرور ان سب باتوں سے بچو، خدا کے غریب اور عاجز بندے بن جاؤ۔ ایک نے سوال کیا کہ اگر کوئی دشمن نقصان دیوے تو پھر بدلہ لیویں کہ نہ ؟ صبر اور عفو فرمایا کہ صبر کرو کہ یہ وقت صبر کا ہے۔ جو صبر کرتا ہے خدا اسے بڑھاتا ہے۔ انتقام کی مثال شراب کی طرح ہے کہ جب تھوڑی تھوڑی پینے لگتا ہے تو بڑھتی جاتی ہے حتی کہ پھر وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا اور حد سے بڑھتا ہے اسی طرح انتقام لیتے لیتے انسان ظلم کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔