ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 167

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۷ جلد پنجم ایک ہندو کا ذکر ہوا کہ وہ کہتا ہے کہ سب مذہب خدا کی صفات کا علم ہونا ضروری ہے نجات یافتہ ہیں اور آ مسیح بھی سچے ہیں وہ اپنے خیال کی تائید میں یہ شعر پیش کرتا ہے۔ ه ذات پات نہ پوچھے کو جو ہر کو بھیجے سو ہر کا ہو فرمایا۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ جو خدا کی عبادت اور اطاعت کرے وہی اس کا ہو سکتا ہے مگر اس بات کا تو پتا ہونا چاہیے کہ آیا خدا کو پوج رہا ہے یا شیطان کو؟ کیا وہ کسی اور کا پجاری ہو کر خدا کا ہو سکتا ہے؟ اس لیے اول خدا کی صفات کا علم ہونا ضروری ہے۔ لے ۱۲ جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) موسی کا خضر کے قتل پر اعتراض کرنا کیوں درست نہ تھا ؟ سوال ۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ توریت میں حکم تھا کہ کوئی نفس بلا کسی نفس کے بدلا قتل نہ کیا جائے تو پھر خضر نے کیوں اس جان کو قتل کیا اور موسیٰ نے جو اس پر سوال کیا تو اسے کیوں خلاف ادب جانا گیا ؟ موسی نے تو رات کے رُو سے سوال کیا تھا۔ کے جواب - فرمایا - مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ (المائدة: (۳۳) کے ساتھ آگے اَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ (المائدة: ۳۳) بھی لکھا ہے فساد کا لفظ وسیع ہے جو شے کسی زمانہ میں فساد کا موجب ہو سکتی ہے وہ آئندہ زمانہ میں قتل نفس کا موجب بھی ہو سکتی ہے۔ حشرات الارض کو ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں ہزاروں روز مارے جاتے ہیں اس لیے کہ وہ کسی کی ایڈا کا موجب نہ ہوں چنانچہ لکھا ہے کہ قَتْلُ الْمُؤْذِي قَبْلَ الْإِيذاء تو ہر ایک موذی شے کا قتل اس کے ایڈا کے دینے سے قبل جائز ہوتا ہے حالانکہ له البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ رجون ۱۹۰۳ صفحه ۱۶۹ ، ۱۷۰ دو کے الحکم میں ہے ۔ حالانکہ موسیٰ علیہ السلام بلحاظ شریعت منزلہ حق پر تھے ۔“ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵)