ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 168

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۸ جلد پنجم اس موذی نے ابھی کوئی قتل و کوئی قتل وغیرہ کیا نہیں ہوتا ہے شریعت اور الہامی اور کشفی اموراً اور کشفی امور الگ الگ ہیں اس لیے ان کو شریعت کے ظاہری الفاظ کے تابع نہ کرنا چاہیے۔ وحی الہی کا معاملہ ہی اور ہوتا ہے اس کی ایک دو نظیر میں نہیں بلکہ ہزار ہا نظائر ہیں بعض وقت ایک ملہم کو الہام کے رو سے ایسے احکام بتلائے جاتے ہیں کہ شریعت کے رُو سے ان کی بجا آوری درست نہیں ہوتی مگر جسے بتلائے جاتے ہیں اسے ان کا بجالا نا فرض ہوتا ہے اور عدم بجا آوری میں اسے موت نظر آتی ہے اور سخت گناہ ہوتا ہے حالانکہ شریعت اسے گناہ قرار ہی نہیں دیتی یہ تمام اور باتیں مِنْ لَدُنَا عِلْمًا کے تحت میں ہوتی ہیں ۔ ایک جاہل تو ان کو شریعت کے مخالف قرار دے گا اور اعتراض کرے گا مگر وہ اس کی بیوقوفی ہوگی وہ بھی اصل میں ایک شریعت ہی ہے۔ ہے جب سے دنیا چلی آئی ہے یہ دونوں باتیں ساتھ ساتھ چلی آتی ہیں یعنی ایک تو ظاہر شریعت ہے جو کہ دنیا کے لے الحکم میں ہے۔ ” قانون قدرت ہمیں اس قانون کے رواج کا نشان دیتا ہے۔ قرآن کریم اور دیگر کسی شریعت اور آسمانی نے بھی یہی جائز رکھا اور عقل انسانی بھی اسی قتل حفظ ما تقدم کے لیے سبق دیتی ہے ۔“ ہے۔“ ন رو الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵) الحکم میں ہے۔ دراصل اہل باطن کے لیے وہ بھی ایک شریعت ہوتی ہے جس کی بجا آوری ان پر فرض ہوتی الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵) الحکم سے۔ شریعت ظاہری وہ ہے کہ جس میں اُمور دُنیا کا پورا پورا انصرام اہتمام نیا کا پورا پورا انصرام اہتمام کیا گیا ہے تا کہ اس کے انتظام میں بلحاظ ظاہر کے کوئی بات خلاف طریق ظاہر نہ ہو۔ شریعت باطنی وہ ہے کہ بعض امور ظاہری جو بادی النظر میں کامل طور پر ظہور پذیر نہیں ہو سکتے الہام و کشوف سے ظاہر اور رواج دیئے جاتے ہیں ۔ شریعت ظاہری کی طرح اہلِ کشف پر احکام نازل ہوتے ہیں ۔ جو بعض امور کے حقائق پر مشتمل ہوتے ہیں اور جب تک ملہم ان کی بجا آوری میں بدل وجاں کوشش نہ کرے ممکن نہیں کہ اندرونی اصلاح کما حقہ حقیقتاً ہو سکے اور یہ امور جو اہل کشف پر نازل ہوتے ہیں شریعت کے دراصل مخالف اصل مخالف نہیں ہوتے بلکہ بعض حقائق کی تکمیل ہوتی ہے مثلاً کہا جاتا ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى ہے۔ التَّهْلُكَةِ (البقرة: ۱۹۶) جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ مگر ایک شخص کو حکم ہوتا ہے کہ تو اپنے بچے کو دریا میں ڈال دے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ماں کو حکم ہوا۔ یا دریا چیر کر نکل جا جیسے خود موسیٰ علیہ السلام کو یا مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر اور آپ کرنے لگ گئے ۔ یہ امور شریعت سے وراء الوری ہوتے ہیں جن کو اہل حق ہی سمجھتے ہیں اور وہی اُن کو بجالاتے ہیں ۔“ (الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵)