ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 166 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 166

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۶ جلد پنجم لو ثبوت خدا کی خدائی کا ہے اسی لیے ان کے مخالف حیران ہو جاتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ جو شخص بڑا جاہل اور ان کے تقدس سے بے خبر ہوتا ہے وہ بھی کم از کم ان کی دانائی کا قائل ہوتا ہے جیسے عیسائی لوگ آنحضرت کی پیشگوئیاں پوری ہوتی دیکھ کر کہتے ہیں کہ وہ بہت دانا آدمی تھا۔ طاعون کے علاج کی نسبت فرمایا کہ تو یہ ہی طاعون کا علاج ہے بجز اس کے کہ تو بہ ہو اور سب تجاویز جو اس کے علاج کے لیے سوچی جاویں۔ خدا کے ساتھ مقابلہ ہے کوئی تجویز ہو، نا کافی ہے جب تک خدا سے صلح نہ ہو۔ ہے ارجون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) حقیقت اور معرفت ہوتا ہے۔ سکے فرمایا کہ در حقیقت خدا تعالیٰ نے تنگی کسی بات میں نہیں رکھی جوئندہ یا بندہ فرمایا کہ دو شخص برابر نہیں ہو سکتے ایک وہ جو حقیقت پر پہنچتا ہے اور ایک وہ جو معرفت تک ہے جیسے رویت اور سماع برابر نہیں ہو سکتے ویسے ہی یہ بھی برابر نہیں ہے جو عارف ہے اور نمونہ قدرت دیکھ چکا ہے اور ایک دوسرا جس کے پاس کوئی نظیر نہیں کہ جسے پیش کر سکے صرف ظنی امور پاس ہیں وہ کیسے برابر ہوں ۔ لے الحکم سے۔ انبیاء کی زندگی کے واقعات صاف بتلا رہے ہیں کہ آپ کیسے آگے سے آگے قدم بڑھاتے رہے حالانکہ ان کے دشمن ہر آن ان کی ذلت و رسوائی سے نا نا کامیابی کے دل سے سے خواہاں اور امید کرنے والے تھے تھے مگر مگر غیرت الہی نے ان کو باوجود اس کی تمام رکاوٹوں کے ہر ہر موقع پر ہر میدان میں فتح و نصرت عطا کی ۔ الغرض فتح و کشود کاری کی ہر ۔ فتح کلید تو گل و توحید ہے۔“ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵) البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۹، ۱۷۰ سے الحکم میں یوں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کسی کی سعی کو ضائع نہیں کرتا۔ جوئندہ یا بندہ ۔“ کے الحکم میں یہ عبارت یوں ہے ۔ ”صاحب شریعت اور صاحب عرفان دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵) الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵ )