ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 165

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۵ جلد پنجم وقت مؤجل آ پہنچتا ہے خدا ایسا نہیں کہ کسی کو ضائع کرے یہ اعتراض کہ ہمارے املاک تباہ ہو جاویں گے غلط ہے آنحضرت کے زمانہ میں ابوبکر وغیرہ کے املاک ہی کیا تھے؟ ایک ایک دو دوسویا کچھ زیادہ روپیہ کسی کے پاس ہو گا مگر اس کے کا اجر ان کو یہ ملا کہ خدا نے بادشاہ کر دیا اور قیصر و کسری کے وارث ہو گئے ۔ مگر خدا کی غیرت یہ نہیں چاہتی کہ کچھ حصہ خدا کا ہو اور کچھ شیطان کا اور توحید کی حقیقت بھی یہی ہے کہ غیر از خدا کا کچھ بھی حصہ نہ ہو۔ توحید کا اختیار کرنا تو ایک مرنا ہے لیکن اصل میں یہ کرنا ہی زندہ ہونا ہے۔ مومن جب تو بہ کرتا ہے اور نفس کو پاک صاف کرتا ہے تو خوف ہوتا ہے کہ میں تو جہنم میں جا رہا ہوں کیونکہ تکالیف کا سامنا ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ اسے ہر طرح سے محفوظ رکھتا ہے یہ موت مختلف طریق سے مومنوں پر وارد ہوتی ہے کسی کو لڑائی سے کسی کو کسی طرح سے سے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے جنگ نہ کی تو آپ کو لڑکے کی قربانی کرنی پڑی۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ خدا پر امید رکھے اور ایک اور بھی حصہ دار ہو۔ قرآن میں بھی لکھا ہے کہ حصہ سے خدا راضی نہیں ہوتا بلکہ فرماتا ہے کہ حصہ داری سے جو حصہ انہوں نے خدا کا کیا ہوتا ہے وہ بھی خدا انہی کا کر دیتا ہے کیونکہ غیرت احدیت حصہ داری کو پسند نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء باوجود غریب، یتیم اور بے کس اور بلا اسباب ہونے کے اور پھر بموجب قانون دنیا کے بے ہنر ہونے کے آگے سے آگے قدم بڑھاتے ہیں اور یہ سب سے پہلا ل الحکم سے ”جو ۔ لوگ اللہ کے لیے کچھ کھوتے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ پالیتے ہیں ہیں۔“ ۔“ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵) کے الحکم سے مگر چونکہ انہوں نے پورے اخلاص سے اپنے اتنے کچھ اندوختہ کو راہِ مولا میں قربان کیا۔ اس لیے اللہ تعالی نے اس کے اجر میں آپ کو قیصر و کسری کے خزائن کا مالک کر دیا ۔ سب کچھ کامل ایمان و سچے اخلاص سے ملتا ہے۔“ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۵) سے الحکم میں یہ عبارت یوں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک مومن پر طرح طرح کے ابتلا اور آزمائش لاتا ہے کسی کو جنگ میں آزمانے سے کسی کو روپیہ پیسہ سے کسی کو بیٹے کے قربان کرنے سے جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو “ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵)