ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 164

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۴ جلد پنجم چند روز کے بعد حکم دیا کہ اسے چھوڑ دیا جاوے پھر اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے کہ پہلے دنیا کے تمام ناموں سے تیرا نام مجھے بہت برا معلوم ہوتا تھا اور آج وہی نام سب سے پیارا ہے اور اس شہر سے مجھے بہت نفرت ہوتی تھی لیکن اب اس شہر کو محبت اور پیار کی جگہ دیکھتا ہوں تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ہی تھی جس سے باطنی چرک و میل دور ہوتی تھی اس کو بنظر استخفاف نہ دیکھنا چاہیے تو جہ میں بھی ایک قوت قدسیہ اور تاثیر ہوتی ہے۔ لے رض صحابہ کرام کے حالات کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں صحابہ کا اخلاص اور اس کا اجر نے نہ گرمی دیکھی نہ سردی اپنی زندگی کوتباہ کر دیا ہ عزت کی پروا کی نہ جان کی بکری کی طرح ذبح ہوتے رہے۔ اس طرح کی نظیر پیش کرنی آسان نہیں ہے اس جماعت کے اخلاص کا اس سے زیادہ کیا ثبوت ہے کہ جان دے کر اخلاص ثابت کیا ان کے نفس بالکل دنیا سے خالی ہو گئے تھے جیسے کوئی ڈیوڑھی پر کھڑا سفر کے لیے تیار ہوتا ہے ویسے ہی وہ لوگ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کے واسطے تیار تھے۔ ہے لوگوں کے کاموں میں بہت حصہ دنیا کا ہوتا ہے اور اس فکر میں ہوتے ہیں کہ یہ کرو وہ کرو اور لے الحکم میں یہ عبارت یوں بیان ہوئی ہے ۔ اس نے کہا کہ پہلے آپ کا نام مبارک مجھے تمام ناموں سے زیادہ مذموم مجھے معلوم ہوتا تھا مگر اب تمام ناموں سے زیادہ محمود و پیارا معلوم ہوتا ہے اور اس شہر کو جس میں آپ رہتے ہیں میں زیاد پیار معلوم ہوا ہے اور اس شر کو جس میں رہتے ہیں میں حقارت کی نگاہ سے دیکھا کرتا تھا مگر اب یہی محبوب ترین نظر آتا ہے ۔ یہ کیا بات تھی جس نے اس شخص کو گرویدہ بنالیا ؟ مگراب یہ حضور علیہ السلام کی توجہ کا اثر تھا۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴) کے صحابہ کے اخلاص کا ذکر الحکم میں ان الفاظ میں ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات کو دیکھ کر سن کر تعجب آتا ہے کہ انہوں نے نہ گرمی دیکھی اور نہ سردی اور نہ عزت اور نہ آبرو ۔ سب دنیوی فخر و ناز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر خاک میں ملادیا۔ ہر ایک ذلت آپ کی نافرمانبرداری میں اور ہر ایک عزت آپ کی اطاعت میں ہی دیکھی ۔ بھیڑ و بکری کی طرح آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ذبح ہو گئے۔ کوئی قوم کوئی مذہب دنیا میں ہے جو سچی قربانی کی مثال صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بڑھ کر دکھا سکے؟ جان دے کر سچا اخلاص دکھانا اسی کو کہتے ہیں۔ ان کے نفس بالکل کدورت دنیا سے پاک ہو چکے تھے جیسے کوئی گھر سے نکل کر ڈیوڑھی پر کھڑا ہو کر سفر کے لیے تیار ہوتا ہے ویسے ہی وہ دنیا کو چھوڑ کر آخرت کے واسطے تیار تھے۔“ (الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۴ ،۱۵)