ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 163

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۳ رجون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) جلد پنجم ایک شخص نے حضرت اقدس کی بیعت کی نسبت کچھ بشارات ایمان لانے کے مختلف طریق خدا تعالی سے پائی تھیں وہ حضرت اقدس کی خدمت میں تحریر کر کے روانہ کی تھیں حضرت اقدس نے ان کو سن کر فرمایا کہ جو لوگ فطری امور کی استعداد نہیں رکھتے اللہ تعالیٰ ان کو بذریعہ رؤیا کے سمجھا دیتا ہے۔ آنحضرت کے معجزات میں سے بھی یہ بات تھی کہ لوگ رو یاد یکھتے اور بعض وہ تھے جو کہ آپ کے جو دوسخا کو دیکھ کر ایمان لائے اور پھر آپ نے سب کو ایک ہی راہ سے گذرانا۔ یہ ایک مشکل کام ہے کہ ہر ایک کی رعایت بھی مد نظر رہے اور پھر ایک ہی راہ سے سب کو گزارا جاوے۔ آپ پر ایمان لانے کے مختلف طریق تھے بعض اخلاق دیکھ کر ایمان لائے تھے کے غرضیکہ آدم سے لے کر آنحضرت تک جس قدر طریق جمع ہو سکتے تھے وہ سب آپ میں جمع تھے یہ بھی ایک مجموعہ جمع کرنے کے قابل ہے کہ اسلام میں داخل ہونے کے طریق کیا کیا تھے۔ آنحضرت کے آثار میں سے ایک توجہ کا بھی حصہ ہے کہ جو لوگ قسی القلب تھے وہ بھی کھچے چلے آتے تھے ایک دفعہ ایک بادشاہ ثمامہ کو باندھا گیا آپ اس کے حالات ہر روز دریافت کرتے چنانچہ لے الحکم میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے ۔ انبیاء کے ماننے کے مختلف طریق ہیں بعض ایسے اشخاص ہیں جو رویائے صادقہ کے ذریعے ایمان لاتے ہیں اور بعض دلائل عقلی و نقلی کے ذریعہ اور بعض پیغمبروں اور ماموروں کے اخلاق فاضلہ دیکھ کر ۔ الغرض ایمان لانے کے مختلف طریق ہیں مگر سب کو ایک ہی تنگ راہ سے گزارنا بہت ہی مشکل ہے۔ بلکہ ہر ایک فرد بشر کے الگ الگ مذاق کی رعایت رکھنا ضروری ہے ۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴) کے الحکم سے ۔ بعض آپ کی جود وسخا دیکھ کر ہی ایمان لائے اور بعض اور اور محامد و محاسن مشاہدہ کرکے۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وجود پاک میں تمام انبیاء علیہم السلام کے محامدوں کے جامع تھے جس کے سبب سے آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہلائے اس لیے آپ پر ایمان لانیوالے بھی ہر ایک مختلف طور و طریق کو دیکھ کر آپ کے پیچھے الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴) ہو لیے۔“