ملفوظات (جلد 5) — Page 162
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۲ جلد پنجم ہے کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو پس اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ فرما کر یہ جتلا دینا کہ عاصم وہی ہے اسی کی طرف تم رجوع کرو۔ گناہ جو انسان سے صادر ہوتا ہے اگر انسان یقین سے تو بہ کرے لے تو استغفار کی حقیقت خدا بخش دیتا ہے۔ پیغمبر خداجوستر بار استغفار کرتے تھے حالانکہ ایک دفعہ کرتے کے استغفار سے گذشتہ گناہ معاف ہو سکتے تھے پس اس سے ثابت ہے کہ استغفار کے یہ معنے ہیں کہ خدا آئندہ ہر ایک غفلت اور گناہ کے کو دبائے رکھے اس کا صدور بالکل نہ ہو۔ فَلَا تُرَكُوا انْفُسَكُمُ (النجم : ۳۳) سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ معصوم اور محفوظ ہونا تمہارا اور محفوظ ہونا تمہارا کام نہیں ہے خدا کا ہے۔ ہر ایک نور اور طاقت آسمان سے ہی آتی ہے۔ سے ۶ جون ۱۹۰۳ء ڈاکٹری کے امتحان کا ذکر تھا اس پر فرمایا کہ طبابت کا پیشہ پاس کے خیال میں مستغرق ہوکر اپنی صحت کو خراب کر لینا ایک مکروہ خیال ہے۔ اول زمانہ کے لوگ علم اس لیے حاصل کرتے تھے کہ تو کل اور رضائے الہی حاصل ہو۔ اور طبابت تو ایسا فن ہے کہ اس میں پاس کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جب ایک طبیب شہرت پا جاتا ہے تو خواہ فیل ہو مگر لوگ اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ تحصیلِ دین کے بعد طبابت کا پیشہ بہت عمدہ ہے۔ " لے الحکم سے۔ گناہ سچی توبہ سے دور ہو جاتا ہے۔ سچی توبہ عصمت و حفاظت کا پاک جامہ پہناتی ہے کا ہے“ الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ صفحه ۱۴) الحکم سے۔ تاہر ایک غفلت وکسل سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴) ۲۴رجون البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۹ البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۹