ملفوظات (جلد 5) — Page 161
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۱ جلد پنجم سے پوچھا کہ آج جو ہم نے یہ عظیم الشان معجزہ دیکھا کیا اب بھی نہ مانو گے؟ تو اس نے جواب دیا کہ اب تو حد ہو گئی۔ اب بھی نہ مانوں تو کب مانوں ۔۔۔۔۔۔۔ مردہ زندہ ہو گیا ہے اس کے بعد الہام ہوا سَلِيمٌ حَامِدٌ مُسْتَبْشِرًا کچھ حصہ الہام کا یاد نہیں رہا۔ والد کا زندہ ہونا یا کسی اور مُردہ کا زندہ ہونا کسی مردہ امر کا زندہ ہونا ہے میں نے اس سے یہ بھی سمجھا کہ ہمارا کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جلال ظاہر ہونے کا موجب اور والدین کے رفع درجات کا بھی موجب ہے۔ فرمایا که شرطی طلاق اگر شرط ہو کہ فلاں بات ہوتو طلاق ہے اوروہ بات ہوجائے تو پھر واقع طلاق ہوجاتی ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ اگر فلاں پھل کھاؤں تو طلاق ہے اور پھر وہ پھل کھالے تو طلاق ہو جاتی ہے۔ لے ۵ جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) ذکر ہوا کہ ایک رکعت میں بعض لوگ قرآن کو ختم کرنا کمالات ایک رکعت میں قرآن ختم کرنا میں تصور کرتے ہیں اور ایس حافظوں اور قاریوں کو اس امر کا بڑا فخر ہوتا ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ گناہ ہے اور ان لوگوں کی لاف زنی ہے جیسے دنیا کے پیشہ والے اپنے پیشہ پر فخر کرتے ہیں ویسے ہی یہ بھی کرتے ہیں۔ آنحضرت نے اس طریق کو اختیار نہ کیا۔ حالانکہ اگر آپ چاہتے تو کر سکتے تھے مگر آپ نے چھوٹی چھوٹی سورتوں پر اکتفا کی۔ پھر فرمایا کہ انعامات کی اُم ہر ایک تھے کی ایک اُم ہوتی ہے میں نے سوچا کہ اللہ تعالی کے جوانعامات ہیں ان کی اُم کیا ہے؟ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ ان کی اُم اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ٢١) ل البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخه ۱۲ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۲