ملفوظات (جلد 5) — Page 160
ملفوظات حضرت مسیح موعود یکم ، ۲، ۳ رجون ۱۹۰۳ء ۱۶۰ ان تاریخوں میں کوئی بات قابلِ نوٹ نہیں ہے۔ ایک بار مقدمہ ہمیشہ سیدھا کرنا چاہیے مقدمات کے ذکر پر فرمایا کہ جلد پنجم مقدمہ ہمیشہ سیدھا کرنا چاہیے جب معلوم ہو کہ از روئے قانون بھی صاف طور پر ہمارا حق ثابت ہے اور از روئے شریعت بھی تو ابتدا کرنی چاہیے ورنہ پیچ در پیچ بات ہو تو کبھی مقدمہ کی طرف نہ جانا چاہیے۔ ر جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) فرمایا۔ دو یا تین بجے رات کو میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک جگہ پر مع چند ایک ایک رؤیا دوستوں کے گیا ہوں وہ دوست وہی ہیں جو رات دن پاس رہتے ہیں ایک ان میں مخالف بھی معلوم ہوتا ہے اس کا سیاہ رنگ، لمبا قد اور کپڑے چرکیں ہیں ۔ آگے جاتے ہوئے تین قبریں نظر آئی ہیں ایک قبر کو دیکھ کر میں نے خیال کیا کہ والد صاحب کی قبر ہے اور دوسری قبریں سامنے نظر آئیں میں ان کی طرف چلا اس قبر سے کچھ فاصلہ پر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ صاحب قبر ( جسے میں نے والد کی قبر سمجھا تھا ) زندہ ہو کر قبر پر بیٹھا ہوا ہے غور سے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اور شکل ہے والد صاحب کی شکل نہیں مگر خوب گورا رنگ، پتلا بدن ، فربہ چہرہ ہے میں نے سمجھا کہ اس قبر میں یہی تھا اتنے میں اس نے آگے ہاتھ بڑھایا کہ مصافحہ کرے میں نے مصافحہ کیا اور نام پوچھا تو اس نے کہا نظام الدین پھر ہم وہاں سے چلے آئے ۔ آتے ہوئے میں نے اسے پیغام دیا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور والد صاحب کو السلام علیکم کہہ چھوڑنا۔ راستہ میں میں نے اس مخالف البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخه ۱۲ را جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۲