ملفوظات (جلد 5) — Page 159
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۹ نہیں کی۔ یا د رکھو اور عمل کرو جو جس سے پیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔ ۳۰ رمتی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) جلد پنجم ایک صاحب کے مقدمہ کی تاریخ عنقریب تھی ۔ وہ دعا کروانے کے واسطے آئے تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ چار پانچ دن یہاں رہو اور ہر روز ملاقات کرو کہ دعا کی تحریک ہو۔ یہ نہ خیال کرو کہ پیچھے نقصان ہوگا۔ سب کچھ خدا کرتا ہے اسباب پر نظر نہ رکھو۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ رعایت اسباب ہی چھوڑ دو۔ بلکہ یہ کہ یہ نہ خیال کرو کہ فلاں بات ہو تو ہی یہ ہوگا۔ جیسے کہ روٹی کھانی پانی پینا منع نہیں ہے۔ مگر اس پر یہ بھروسہ کرنا کہ اس سے زندگی ہے یہ منع ہے۔ کئی آدمی روٹی کھاتے ہیں ۔ ادھر سول (درد) ہوا اور جان گئی۔ پانی پیا اور ہیضہ سے مر گئے ان پر بھروسہ کرنا یہ شرک ہے۔ اسباب وہی بہم پہنچاتا ہے۔ ریاست کپورتھلہ سے خبر آئی کہ بعض لوگوں نے ایک مشورہ کر کے اس امر کا منصوبہ بنانا چاہا ہے کہ وہاں کی احمدی جماعت کے بعض ممبروں کو ایذا دیویں۔ اس پر فرمایا۔ وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (ال عمران: ۵۶) یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ فتنہ فساد ہو ۔ دعا کی جاوے گی۔ ایک شخص نے عرض کی کہ سارے گاؤں میں میں ایک اکیلا آپ کا مرید ہوں ۔ فرمایا خدا پر بھروسہ کرو۔ خدا پر بھروسہ کرنے والا اکیلا نہیں ہوتا۔ ہے ل البدر سے۔ مگر جو دنیا میں اس قدر غرق ہے کہ گویا اس نے بیعت ہی نہیں کی اور اُسے ملنے کی فرصت ہی نہیں کیا وہ ان لوگوں کے برابر ہو سکتا ہے جو بار بار آ کر ملتے رہتے ہیں ۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخه ۱۲ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۱ ) البدر سے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ مسلمان ہو کر پادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض ہندوؤں سے رکھتے ہیں۔ خدا فرماتا ہے کہ پھر وہ انہی میں سے ہیں۔ یہ باتیں ہیں ان کو یا درکھو اور خدا سے عمل کی توفیق طلب کرو ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخه ۱۲ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶۱) سے الحکم جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخه ۱۷ رجون ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۷، ۱۸ البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخه ۱۲ جون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۶۱