ملفوظات (جلد 5) — Page 158
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۸ جلد پنجم وہاں اصحاب میں سے بھی کوئی نہ کوئی مر جاتا تھا اگر خدا تعالیٰ کھلا کھلا نشان مثلاً سوٹے کا سانپ کر دے تو نیک و بد میں فرق کیا رہے گا؟ تمام یورپ و امریکہ داخل اسلام ہو جاویں گے مگر خدا تعالیٰ نے ہمیشہ امتیاز رکھا ہے صحابہ کرام کو خدا تعالیٰ نے توحید پھیلانے کے لیے پیدا کیا اور انہوں نے توحید پھیلائی اب بھی خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ توحید پھلے جو آوے گا وہ خدا کی رحمت سے محروم نہ رہے گا مگر چاہیے کہ اپنے وجود کو وہ مفید بناوے سے اللہ تعالیٰ خود ان کی حفاظت کرے گا زبان سے خدا خدا کہنا دان کی چھنا را کہنا مگر عمل سے خدا سے بیگانگی ایک طرح کا دہر یہ پن ہی ہے۔ گھروں کو ذکر اللہ سے معمور کرو۔ صدقہ و خیرات دو۔ گناہوں سے بچو۔ اللہ رحم کرے جولوگ بیعت کر کے چلے جاتے ہیں اور پھر شکل بھی نہیں دکھلاتے ان کے لیے دعا کیا ہو جب ہمیں وہ یاد تک بھی نہیں رہتے ۔ بار بار ملو اور تعلق محبت بڑھاؤ ۔ جو بار بار آتا ہے اس کی ذراسی تکلیف سے دعا کا خیال آجاتا ہے مگر جو لوگ دنیا کے معاملات میں مستغرق رہتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں گویا انہوں نے بیعت ہی دو ل البدر میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ ہر نبی کے ساتھ ایسا ہوا کہ مقابلہ کے وقت جہاں کفار مرتے رہے اس کی جمعیت میں سے بھی کچھ مرتے رہے حضرت موسیٰ کی جنگ میں اگر ایک طرف کنعانی مرتے تو ایک طرف اسرائیلی بھی مرتے ۔ اگر خدا ایسی کھلی کھلی بات کر دے کہ اندھے بھی فرق کریں تو پھر ایک بھی کافر نہ رہے سوٹے کا سانپ اگر بنادیا تو اس سے لوگوں کو کیا ؟ مگر جان کے بچنے کا علاج اگر ان کو ملتا ہو تو ایمان لانے سے کون باہر رہتا ہے۔ تمام یورپ اور امریکہ بھی جلد ہی داخل اسلام ہو جاویں۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۶) البدر سے ۔ اپنے وجود کو جس قدر کارآمد بناوے گا اسی قدر اس کی حفاظت ہوگی ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۶) سے البدر میں ہے ۔ ” جب انسان ایک بدی کرتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا نے اس سے منع کیا ہے تو وہ دہر یہ ہوتا ہے۔ خدا کی عظمت اور جلال اس کے دل میں نہیں ہوتا۔ ایسا شخص خدا کی حفاظت میں نہیں ہے وہ جب چاہے اُسے مار دے یا ایسی بلا میں اُسے ڈال دے کہ نہ زندوں میں ہوا اور نہ مردوں میں لیکن جو شخص خدا کی عظمت دل میں رکھتا ہے اور اس کی نافرمانی سے ڈرتا ہے تو قبل اس کے کہ وہ کسی مصیبت میں پڑے خدا کی نظر میں ہوتا ہے اور وہ اُسے البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخه ۱۲ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۶۱) محفوظ رکھتا ہے ۔“ 66