ملفوظات (جلد 5) — Page 157
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۷ جلد پنجم چنا نچہ قرآن شریف میں لکھا ہے اِن مِنْ قَرْيَةِ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا (بنی اسراءیل : ۵۹) کوئی بستی اور کوئی گاؤں ایسا نہ ہوگا کہ جسے ہم قیامت سے پہلے خطرناک عذاب میں مبتلا نہ کر دیں گے یا ہلاک نہ کر دیں گے۔ غرض کہ یہ منذر نشان ہے کسوف و خسوف کا نشان لوگوں نے ہنستے ہوئے دیکھا اور طاعون کا نشان روتے ہوئے۔ بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارے آدمی کیوں مرتے احمدیوں کا طاعون سے مرنا ہیں ان نادانوں کو اتنا معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی جب لوگ عذاب کا معجزہ مانگتے تھے تو ان کو تلوار کا معجزہ ملا اور یہ بھی ایک قسم کا عذاب تھا۔ اللہ تعالیٰ چنانچہ کئی صحابہ بھی تلوار سے شہید ہوئے مگر کیا ابوبکر وعمر ” جیسے بھی ہلاک : ہوئے؟ الله نے جس جس انسان کے دماغ یا ہاتھ سے کوئی اپنا کام لینا ہے وہ تو بیچ ہی رہے اور بالمقابل جتنے رئیس کفار تھے ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہوا اور ان کے صغیر و کبیر سب کے سب ہلاک ہو گئے ۔ اگر ایک شخص کا ایک پیسہ چوری ہو گیا ہے اور دوسرے کا تمام گھر بار لوٹا گیا ہے تو کیا وہ آدمی جس کا تمام گھر بار لوٹا گیا پیسہ والے کو کہہ سکتا ہے کہ تم اور میں برابر ہیں؟ بھلا سو چو تو سہی کہ اگر ۷۰ برس تک ہمارا کوئی آدمی ہلاک نہ ہو تو ایسا کوئی آدمی ہے جو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے سے رکا ر ہے؟ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ امر منظور نہیں ہے اور نہ کبھی ایسا ہوا۔ ایمان کی حالت ہی کا پوشیدہ ہونا ضروری ہے جب تک ہماری جماعت تقوی اختیار نہ کرے نجات نہیں پاسکتی خدا تعالیٰ اپنی حفاظت میں نہ لے گا یہی سبب ہے کہ بعض ان صحابہ میں سے جن جن سے بڑے بڑے کام لینے تھے وہ سب سخت سے سخت خطروں میں بھی بچائے گئے دوسروں کو خدا نے جلد اٹھا کر بہشت میں داخل کیا۔ جاہل کو حقیقت معلوم نہیں ہوتی جو بات منہ میں آئی کہہ دی ہر ایک نبی کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے جہاں کفار مرتے تھے ل البدر میں ہے ۔ اگر اگر چہ مقابلہ کے وقت اصحاب بھی شہید ہوئے تھے مگر اسلام تو ان کے ساتھ شہید نہ ہو جاتا تھا ہر روز ترقی اسلام کی ہوتی کفار آخر کار گھٹتے گھٹتے ایسے معدوم ہو گئے کہ ان کا نام و نشان نہ رہا۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۶)