ملفوظات (جلد 5) — Page 156
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۶ جلد پنجم إنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر : ۱۰) ۔ کیا وہ غلط کہتا ہے؟ کیا اسلام کی وہ ابھی حالت نہیں ہوئی جو کسی مصلح و مجدد کی ضرورت پیدا کرے طرح طرح کے زمینی و آسمانی نشان پورے ہو چکے مگر وہ اب تک منکر ہیں آج تک ۲۹ لاکھ مسلمان مرتد ہو گئے ہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ اگر ایک شخص مرتد ہو جاتا تھا تو قیامت برپا ہو جاتی تھی جس قدر مسلمان باقی ہیں وہ بھی عیسائیت کے قریب قریب ہی ہیں اگر سو سال تک ایسی ہی حالت رہتی تو اسلام کا نام و نشان زمین سے مٹ جاتا ۔۔۔ لیکن خدا تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ اس نے عین ضرورت کے وقت مجھے مسیح موعود کر کے بھیجا۔ یہ بات کوئی بناوٹی نہیں صد با نشان خرق عادت کے طور پر آسمان وزمین پر میری تصدیق کے لیے ظاہر ہوئے اور ہورہے ہیں چنانچہ طاعون بھی ایک نشان ہے جس کی بابت کل انبیاء خبر دیتے رہے۔ ل البدر سے ۔ ایک طرف نہ ان میں تقویٰ الہی نہ طہارت ۔ ایک طرف عیسائی غالب آ گئے کئی لاکھ رسالہ ہر ماہ عیسائیوں کی طرف سے نکلتے ہیں جن میں افترا ، عیب شماری اور ہتک اسلام کے مضامین ہوتے ہیں جس حالت میں خدا نے اسلام کی نسبت کہا کہ وہ قیامت تک زندہ مذہب ہو گا وہ اسلام کی اس حالت کو کیسے دیکھے۔ اگر اب بھی وہ مجدد نہ بھیجے حالانکہ سو سال صدی کے گزر گئے ۲۰ سال اور بھی اوپر ہوئے تو اب اندازہ کر لو کہ اور ایک صد سال تک اسلام کا کیا حال ہو گا ؟ ۱۰۰ برس بعد مجدد آنے میں یہ حکمت ہے کہ ایک سو سال کے گزرنے تک پہلے علم والے گذر جاتے ہیں اور اپنی باتیں اپنے ساتھ قبر میں لے جاتے ہیں ۔ اگر نئے علوم پھر خدا نہ بتلا دے تو حق کیسے قائم رہے؟ چونکہ علم میں فرق آجاتا ہے اس لیے آسمان پر ایک نئی بنیاد ڈالی جاتی ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ صدی گزرگئی اور اس پر ۲۰ برس اور بھی گزر گئے اب خدا نے ایک سلسلہ قائم کیا اور مجھے مسیح موعود بنایا۔ یہ بات بناوٹی نہیں ہے اس کے واسطے نشانیاں ہیں ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۶) 66 البدر سے۔ لکھا ہوا تھا کہ چاند اور سورج کا گرہن ماہ رمضان میں ہو گا ویسے ہی ہوا پھر طاعون لکھی تھی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی عمر ستر ستر بلکہ پچہتر برس کی ہوتی ہے ابھی تو کے آمدی اور کے پیر شدی کا معاملہ ہے یہ خدا کی آفت ہے فیصلہ کر کے چھوڑے گی سب انبیاء نے اس کی خبر دی ہے۔ قرآن شریف میں اس کا ذکر ہے جیسے کہ لکھا ہے إِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا (بنی اسراءیل : ۵۹) البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۶)