ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 155

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۵ جلد پنجم آیا حدیث کے فرمودہ کے مطابق چودہویں صدی کے سر پر مجدد آیا مگر انہوں نے قبول نہ کیا ہزاروں طرح کے حیلے دنیا نے کئے ، طرح طرح کی شرارتیں و منصوبے تجویز کئے مگر اللہ تعالیٰ کا جیسا کہ وعدہ تھا اپنے زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کرتا رہا۔ عیسائی لوگ زہرناک کیڑے کی طرح اسلام کے درخت کی جڑ کو کاٹ رہے ہیں ۔ مگر علماء کو ذرا بھی خیال نہیں بلکہ اپنے خیالات سے کہ مسیح زندہ آسمان پر ہے اور دوبارہ قیامت سے پہلے آئے گا مدد دے رہے ہیں ان کی لگا تار کوشش یہی ہے کہ اسلام کا نام تک مٹ جائے اور یہ اپنے فاسد عقائد سے ان کو مدد دے رہے ہیں۔ دیکھ لو کہ پادریوں نے شہر بہ شہر گاؤں بہ گاؤں مکر و تزویر کا جال پھیلا یا ہوا ہے عورتوں اور بچوں تک کمر بستہ ہیں کہ کسی طرح ایک عاجزہ کے بیٹے کو خدا بنا کر منوا دیں کئی کروڑ کتابیں رڈ اسلام میں بنا کر مفت تقسیم کر دیں اس پر بھی مسلمانوں کو غیرت نہ آئی کیا وہ خدا جو کہتا ہے دو ل البدر میں ہے۔ عیسائیوں عیسائیوں کی لگا تار یہ کوشش ہے کہ کسی طرح اسلام کا نام زمین سے مٹ جاوے اور اب خدا چاہتا ہے کہ از سرِ نو اسلام کو زندہ کرے۔ سابقہ کتب میں ان باتوں کا ذکر تھا کہ مسلمانوں کو ایک زحمت اندرونی ہوگی ایمان اٹھ جاوے گا دنیا کے کیڑے ہو جاویں گے جو محبت خدا سے چاہیے وہ دنیا سے کریں گے۔ دوستی محبت میل ملاپ سب دنیا کے واسطے ہو گا۔ دوسری بلا اور آفت یہ ہوگی کہ ایک انسان کی پرستار عیسائی قوم ان کو گمراہ کرنے پر کمر بستہ ہو گی سو تم دیکھتے ہو کہ انہوں نے مکر کا جال کیسا پھیلایا ہے۔ شہر بہ شہران کے پادری موجود ہیں۔ عورتیں ہر جگہ پھرتی ہیں گاؤں میں چھاؤنیاں ڈالی ہوئی ہیں ان کا ارادہ ہے کہ ایک مسلمان بھی دنیا میں نہ رہے۔ من گھڑت باتیں بنا کر آنحضرت کی بے ادبیاں کرتے ہیں اور رات دن اس کوشش میں ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمانوں کے دل بیزار ہوں۔ حال کے مسلمان جن کی مت ماری گئی ہے ۔ بد قسمتی سے اندھے ہو گئے ہیں۔ وہی بات کرتے ہیں کہ اسلام کو فائدہ نہ پہنچے اور عیسائیوں کو پہنچے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۶۳ برس کہتے ہیں اور مسیح کو قیامت تک زندہ مانتے ہیں پھر یہ کہ آخری زمانہ میں وہی آوے گا۔ حکم اور قاضی بھی وہی ہوگا۔ دوسری بات یہ مانتے ہیں کہ وہ خالق بھی ہے۔ جانور اس نے بنائے مردہ اس سے زندہ ہو گئے ۔ غرض کہ اس قسم کی باتوں سے عیسائیوں کی اس قدر تائید کرتے ہیں کہ ان میں اور عیسائیوں میں صرف انیس اور بیس کا فرق رہ جاتا ہے۔ جس قدر باتیں یہ مسیح کی نسبت کرتے ہیں ویسی ایک بھی آنحضرت کی نسبت نہیں کرتے ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۶)