ملفوظات (جلد 5) — Page 153
ملفوظات حضرت مسیح موعود مومنوں کے تین طبقے ہیں ۔ ۱۵۳ ایک وہ جو ٹھو کر کھانے کے لائق ہوتے ہیں ۔ جلد پنجم دوسرے وہ جو میانہ رو کسی ٹھوکر سے بچتے اور ڈرتے رہتے ہیں۔ تیسرے وہ جو ہر ایک ٹھوکر سے ایسے بیچ کر نکل جاتے ہیں جیسے کہ سانپ اپنی کینچلی سے ۔ وہ ہر ایک خیر کے لئے دوڑتے اور ہر ایک شر سے بھاگتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے تزکیہ کا خیال نہیں کیا وہ بالضرور بے پردگی سے ٹھو کر کھا سکتے ہیں۔ عورتوں کو ان سے پردہ کرنا چاہیے۔ مثل مشہور ہے کہ ع خر بسته به گرچه دزد آشنا است قسم اول ظَالِمُ لِنَفْسِه - دوم مُقْتَصِدٌ - سوم سَابِقٌ بِالْخَيْرَتِ ان مختلف مدارج و مراتب کے اشخاص کیسے یکساں سلوک کے لائق ہیں؟ کیا عیسائی بتا سکتے ہیں کہ ان میں سب پاکباز ہیں۔ شرابی نہیں ، زانی نہیں۔ اگر پردہ ہوتا تو ان جرائم کی نوبت کیوں آتی ہزار ہاولد الحرام کیوں پیدا ہوتے۔ تجربہ بتا رہا ہے اوّل قسم کے لوگ بکثرت ہیں۔ لے اس لیے ان سے حتی الوسع پردہ کرنے کے لیے شریعت نے مجبور کیا کہ پردہ کی رسم ہو۔ شرابی آدمی کو طعن و تشنیع کا فکر ہے نہ ڈنڈے کا خوف ۔ اس لیے عیسائیوں کا اسلام پذیر ہونا محالات سے ہے۔ کے ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ء (در بار شام) آج حضرت اقدس نے بہت سے احباب کی بیعت کے بعد تقریر فرمائی۔ فرمایا کہ اب تم لوگ جو بیعت میں داخل ہوئے ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ تم نے عہد نو مبایعین کو نصائح کیا ہے ک ہم دین کو دنیا پر دم کریں گے سو یاد رکھنا چاہے کہ یہ عہد ل البدر میں ہے ۔ اور تیسرے درجہ والے دور کے ستاروں کی طرح ہیں اس لیے بلحاظ کثرت کے خدا کے قانون نے چاہا کہ پردہ کی رسم عام ہو۔ تجارب اور نظائر بھی بتلا رہے ہیں ۔ یورپ اور امریکہ اور فرانس کی سیر کرو تو پتا لگے البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۵) گا۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷ رجون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷