ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 152 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 152

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۲ حضرت اقدس نے پھر اپنی تقریر کو شروع کیا اور فرمایا کہ جلد پنجم یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک شریف آدمی جب یورپ اور اسلامی ممالک کا موازنہ خلاف واقعہ بات سنتا ہے اور پھر اس پر اصرار کرتا ہے تو دل میں سخت رنجیدہ ہوتا ہے۔ ہمارا سوال تو یہ ہے کہ پادری صاحب سے پوچھا جاوے کہ گناہ سے تمہاری کیا مراد ہے؟ آیا زنا، چوری، فریب، قتل، قمار بازی ، شراب نوشی تمہارے نزدیک گناہ میں داخل ہیں یا نہیں ۔ اگر ہیں تو کیا یورپ کی حالت اسلامی ممالک کی حالت سے بہتر ہے یا ابتر یا مساوی_صغائر کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ مثلاً ایک شخص بد نظری میں مبتلا ہے۔ ممکن ہے کہ اس عورت کو خبر ہی نہ ہو جس پر بد نظری کرتا ہے۔ لیکن ایک شخص جو زنا کرتا ، شراب پیتا ہے اس کی خبر ایک دنیا کو ہوگی ۔ ان جرائم کا اس قدر زور ہے کہ چھپائے سے چھپ سکتا ہی نہیں ۔ قمار بازی میں اس ہوتا ہے۔ شراب نوشی کے ساتھ دوسرے گناہ مثل زنا قبل وغیرہ لازمی پڑے ہوئے ہیں جہاں تک ہمیں مجرموں کے حالات سے شہادت ملتی ہے وہ یہ ہے کہ شراب سے زنا ترقی کرتا ہے۔ چنانچہ شراب نوشی میں اس وقت یورپ اول درجہ پر ہے اور زنا میں بھی اول نمبر پر ۔ اب دیکھئے کہ پردہ کی رسم ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ جیسا کتاب اللہ نے بتایا ہے اور تجارب نے اس کی تصدیق کی ہے سچا تزکیہ نفس جو مجاہدات سے پیدا ہوتا ہے وہ پردہ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ (بقیہ حصہ ) والے سے پوچھا کہ یہ کیا برائی ہے کہ تم لوگ بدیوں سے ذرا بھی نہیں رکتے تو اس نے جواب دیا کہ بدی کیا ہے؟ تمہارے قرآن میں یہ شکتی کہاں ہے کہ ماں اور بہن اور بیٹی وغیرہ صلبی رشتے حلال کر دے۔ ہمارے مذہب میں تو یہ سب باتیں طے کی ہوئی ہیں ۔ البدر میں یہ نوٹ زیادہ مفصل ہے لکھا ہے ۔ شاکت مت ایک ہندوؤں کا فرقہ ہے کہ جب وہ ایک خاص منتر پڑھتے ہیں تو اس وقت ماں اور بہن بیٹی وغیرہ سے مجامعت ان کے ہاں جائز ہو جاتی ہے اور اس پر بڑا ثواب مترتب ہوتا ہے۔ حکیم نورالدین صاحب نے اس وقت ایک قصہ سنایا کہ جب میں نے ایک شاکت مت والے پر ایک دفعہ اعتراض کیا تو اس نے جواب دیا کہ جب تمہارے قرآن کے منتر میں یہ طاقت ہے کہ اس کے پڑھنے سے تمہارے بھائی کی لڑکی تمہارے لڑکے کے لئے جائز ہو جاتی ہے تو ہمارے منتر میں یہ طاقت ہے کہ وہ ماں کو بھی جائز کر دیتا البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۵) ہے۔“ 66