ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 151

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۱ جلد پنجم فرمایا کہ جب انسان تعصب اور فاسقانہ زندگی سے اندھا ہوجاتا ہے تو عیسائیت اور اسلام اسے حق اور باطل میں فرق نظر نہیں آتا۔ ہر ایک حلال کو حرام اور ہر ایک حرام کو حلال سمجھتا ہے اور نیکی کے ترک کرنے میں ذرا دریغ نہیں کرتا۔ شراب جو ام الخبائث ہے۔ عیسائیوں میں حلال سمجھی جاتی ہے۔ لے مگر ہماری شریعت میں اس کو قطا منع کیا گیا ہے اور اس کو رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَنِ (المائدة: (91) کہا گیا ہے۔ کیا کوئی پادری ہے جو یہ دکھا دے کہ انجیل میں حرمت شراب کی لکھی ہے بلکہ شراب ایسی متبرک خیال کی گئی ہے کہ پہلا معجزہ مسیح کا شراب کا ہی تھا تو پھر دلیری کیوں نہ ہو۔ جو بڑا پر ہیز گار اُن میں ہوگا وہ کم از کم ایک بوتل برانڈی کی ضرور استعمال کرتا ہوگا ۔ چنانچہ کثرت شراب نے ولایت میں آئے دن نئے نئے جرائم کو ایجاد کر دیا ہے اور پادری کے اس قول پر کہ اہلِ اسلام گناہ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ سخت تعجب آتا ہے کہ کسی حوصلہ اور دلیری سے یہ بات کہہ دی ۔ بھلا اگر زمانہ دراز کی بات ہوتی تو ممکن تھا کہ ان کے ایسے بہتان سے عیسائیوں کی نیک چلنی کا نسبتا گمان ہوتا ۔ مگر جب یہ دونوں قو میں ہمارے سامنے اپنے اعمال کے دفتر کھولے بیٹھی ہیں تو پھر کسی کی شیخی اور تعلی سے کیا فائدہ؟ روشن ضمیر پبلک خود روز روشن میں دیکھ سکتی ہے۔ ولایت کے جیل خانوں میں ہندوستان کے جیل خانوں کی نسبت جرائم پیشہ لوگوں کی کس فیصدی سے زیادتی ہے؟ جن اصولوں کو عیسائی قوم مانتی ہے وہ اصول خود جرائم مثل زنا، قمار بازی کے محرک ہیں ۔ ان کی اصطلاح سے تو اب گناہ گناہ نہ رہنے چاہئیں ۔ گویا گناہ سے وہ ایسے ہی بے پروا ہو گئے جیسے شاکت مت والے۔ ہے ل البدر میں مزید لکھا ہے ۔ شراب جو ام الخبائث ہے اسے حلال سمجھا گیا ہے۔ اس سے انسان خشوع خضوع سے جو کہ اصل جز و اسلام ہے بالکل بے خبر ہو جاتا ہے۔ ایک شخص جو کہ رات دن نشہ میں رہتا ہے ہوش اس کے بجا ہی نہیں ہوتے تو اسے دوسری بدیوں کے ارتکاب میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ موقع موقع پر ہر ایک بات مثل زنا۔ چوری - قمار بازی وغیرہ کر سکتا ہے ۔ ہماری شریعت نے قطعاً اس کو بند کر دیا ہے اور یہاں تک لکھ دیا ہے کہ یہ شیطان کے عمل سے ہے تا کہ خدا کا تعلق ٹوٹ جاوے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۵) کے نوٹ از ایڈیٹر۔ اس موقع پر حضرت حکیم الامت نے ایک قصہ سنایا کہ جب انہوں نے ایک شاکت مت