ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 8 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 8

ملفوظات حضرت مسیح موعود V جلد پنجم کیا تم یہ قبول کرتے ہو کہ ایک کے ہاں بہت سے مہمان ہوں تو ان میں سے ایک کو وہ مکلف کھانا پلاؤ وغیرہ دیوے اور دوسرے کو معمولی کھانا شور با یا روٹی وغیرہ ۔ باقی مہمان کہیں گے کہ کاش کہ ہم اس گھر میں مہمان نہ ہوتے۔ اسی طرح ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر جو گزرے ہیں انہوں نے کیا گناہ کیا کہ جو فضیلت اور رتبہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیا جاتا ہے ان میں سے ایک کو بھی وہ نہ ملا۔ ان سب کو فوت مانتے ہو اور ایک عیسیٰ کو زندہ اور وہ بھی آسمان پر۔ قرآن فرماتا ہے رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: ۱۱۵) اور حضرت تو اس دعا کو برابر مانگتے رہے۔ آنحضرت کی عمر ۶۳ برس کی ہوئی۔ دوسرے تمام پیغمبروں کو گھٹانا اور مسیح کو سب سے بڑھ کر فضیلت دینا ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کون سی فضیلت مسیح کو دوسروں پر ہے؟ انہوں نے نہ ساری دنیا کی اصلاح کا دعویٰ کیا۔ نہ کوئی دکھ آنحضرت کی طرح ان کو پہنچا۔ نہ مقابلہ کی نوبت آئی ۔ نہ کوئی شکست اٹھانی پڑی۔ چند آدمی صرف ایمان لائے وہ بھی پکڑے گئے ۔ اس کے مقابلہ میں آنحضرت کو دیکھو۔ آپ کا دعوئی کل جہان کے لیے اور سخت سے سخت دکھ اور تکالیف آپ کو پہنچے۔ جنگیں بھی آپ نے کیں ۔ ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ آپ کی زندگی میں موجود تھے پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص آنحضرت کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پر لائے گا۔ جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تو اور کیا ہے؟ ان کم بختوں سے کوئی پوچھے کہ پھر تم محمد رسول اللہ کیوں کہتے ہو عیسیٰ رسول اللہ ہی کہو۔ اب تم کو چاہیے کہ جہاں تک ہو سکے آنحضرت کو عزت دو۔ اگر تم یہ کہو کہ آنحضرت آسمان پر زندہ ہیں تو ہم آج مانتے ہیں مگر جس سے تم کو فیض اور فائدہ کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ اس کو جھوٹی فضیلت دینے سے تم کو کیا حاصل؟ تمام فیضوں کا سر چشمہ قرآن ہے، نہ انجیل نہ توریت۔ جو قرآن کو چھوڑ کر ان کی طرف جھکتا ہے وہ مرتد اور کافر ہے۔ مگر جو قرآن کی طرف جھکتا ہے وہ مسلمان ہے۔ کیا ان لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ آنحضرت کو جب حفاظت پیش آئی تو خدا نے آپ کو غار میں جگہ دی اور عیسی کو جب وہ موقع پیش آیا تو آسمان پر جا بٹھایا۔ پھر آنحضرت کی عمر ۶۳ برس کی کہتے ہیں اور عیسی کو اب تک زندہ مانتے ہیں ۔ ان