ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 7

ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد پنجم بیعت کے معنے ہیں بیچ دینا۔ جیسے ایک چیز بیچ دی جاتی ہے تو اس سے کوئی تعلق نہیں بیعت رہتا۔ خریدار کا اختیار ہوتا ہے جو چاہے سو کرے۔ تم لوگ جب اپنا بیل دوسرے کے پاس بیچ دیتے ہو تو کیا اسے کہہ سکتے ہو کہ اسے اس طرح نہ استعمال کرنا۔ ہر گز نہیں ۔ اس کا اختیار ہے جس طرح چاہے استعمال کرے۔ اسی طرح جس سے تم بیعت کرتے ہو اگر اس کے احکام پر ٹھیک ٹھیک نہ چلو تو پھر کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ ہر ایک دوا یا غذا جب تک بقدر شر بت نہ پی جاوے فائدہ نہیں ہوا کرتا۔ اسی طرح بیعت اگر پورے معنوں میں نہ ہو تو وہ بیعت نہ ہوگی ۔ خدا تعالیٰ کسی کے دھوکا میں نہیں آ سکتا۔ اس کے ہاں نمبر اور درجہ مقرر ہیں ۔ اس نمبر اور درجہ تک تو بہ ہو گی تو وہ قبول کرے گا جہاں تک طاقت ہے وہاں تک کوشش کرو پورے صالح بنو۔ عورتوں کو نصیحت کرو۔ نماز روزہ کی تاکید کرو۔ سوائے آٹھ سات دن کے جو عورتوں کے ہوتے ہیں اور جس میں نماز معاف ہے تمام نمازیں پوری پڑھیں روزے معاف نہیں ہیں ان کو پھر ادا کریں۔ انہی کمیوں کی وجہ سے کہا کہ عورتوں کا دین ناقص ہے۔ اپنے ہمسایہ اور محلہ والوں کو بھی نیکی کی تاکید کرو۔ غافل نہ ہو۔ اگر علم نہ ہو تو واقف سے پوچھو کہ خدا کیا چاہتا ہے۔ اس وقت مسلمانوں نے اپنے دین کو بدل دیا ہے جو خدا چاہتا مسلمانوں کی دینی حالت تھا اسے بدل کر اور اور بنا دیا ہے۔ اس وقت ایک شور بر پا ہے۔ اگر کہا جاوے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے ہیں اور عیسیٰ زندہ ہے تو سب خوش ہوتے ہیں۔ مگر جب کہا جاوے کہ آنحضرت زندہ اور خاتم النبیین اور آپ کے بعد کوئی غیر نبی نہیں آنے والا تو سب ناراض ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے خدا نے سب سے مسیح کو آنحضرت پر فضیلت نہ دو آخر پیدا کیا ویسے ہی آخری درجے کے سب کمال آپ کو دیئے کوئی بھی خوبی کسی دوسرے نبی میں ایسی نہیں جو کہ آپ کو نہ دی گئی ہو۔ ع آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری