ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 148 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 148

ملفوظات حضرت مسیح موعود لوگ اس سے بہت دور ہیں ۔ الد ٧ جلد پنجم بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں سارے دن میں چار دفعہ دم لیتا ہوں بعض فقط ایک یا دو دفعہ اس سے لوگ ان کو ولی سمجھ بیٹھتے ہیں اور ایسی واہیات دم کشی کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ فخر کے قابل یہ بات ہے کہ انسان مرضیات الہی پر چل کر اپنے پیغمبر نبی کریم سے صلح و آشتی پیدا کرے جس سے کہ وہ انبیاء کا وارث کہلائے اور صلحاء و ابدال میں داخل ہو ۔ اسی توحید کو پکڑے اور اس پر ثابت قدم رہے اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ و عظمت اس کے دل پر بٹھا دے گا۔ وظیفوں کے ہم قائل نہیں ۔ یہ سب منتر جنتر ہیں جو ہمارے ملک کے جو گی ہندو سنیاسی کرتے ہیں جو شیطان کی غلامی میں پڑے ہوئے ہیں۔ البتہ دعا کرنی چاہیے خواہ اپنی ہی زبان میں ہو۔ سچے اضطراب اور سچی تڑپ سے جناب الہی میں گداز ہوا ہو ایسا کہ وہ قادر الحی القیوم دیکھ رہا ہے۔ جب یہ حالت ہوگی تو گناہ پر دلیری نہ کرے گا جس طرح انسان آگ یا اور ہلاک کرنے والی اشیاء سے ڈرتا ہے ویسے ہی اس کو گناہ کی سوزش سے ڈرنا چاہیے ۔ گناہگار زندگی انسان کے لیے دنیا میں مجسم دوزخ ہے جس پر غضب الہی کی سموم چلتی اور اس کو ہلاک کر دیتی جس طرح آگ سے انسان ڈرتا ہے اسی طرح گناہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے ہمارا مذہب یہی ہے کہ نماز میں رورو روروکر کر دعائیں مانگ تا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے فضل کی نسیم چلائے دیکھو شیعہ لوگ کیسے راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں حسین حسین کرتے مگر احکام الہی کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ حالانکہ حسین کو بھی بلکہ تمام رسولوں کو استغفار کی ایسی سخت ضرورت تھی جیسے ہم کو ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کا فعل اس پر شاہد ہے۔ کون ہے جو آپ سے بڑھ کر نمونہ بن سکتا ہے۔ لے الحکم جلدے نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷ رجون ۱۹۰۳ء صفحہ ۸