ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 149

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷ رمتی ۱۹۰۳ء ( بوقت ظهر ) ۱۴۹ جلد پنجم ایک صاحب نے عرض کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تو خدائے واحد پر لوگوں کا ایمان نہ تھا اس لئے بیعت کی ضرورت تھی مگر اب تو سب خدا کو مانتے ہیں پھر بیعت کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا کہ اب بھی توحید کہاں ہے اس کا نام و نشان نہیں ہے جس طرح منافق صرف زبان سے کہہ چھوڑتے کہ ہم ایمان لائے ایسے ہی اب برائے نام خدا کا لفظ زبان پر آجاتا ہے جس کے اندر کوئی حقیقت نہیں ہوتی کفر اور فسق کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ نجاست سے بھرا ہوا دل لوگوں کا ہے خود اگر اپنے دل ہی سے شہادت لو تو معلوم ہو گا کہ خدا سے کہاں تک تعلق ہے اور سچی توحید کہاں ہے۔ جب زمانہ کی پلیدی حد درجہ تک پہنچتی ہے تو آسمان سے جو نزول اور بعثت کا فرق تائید یافتہ آتا ہے۔ اس پر نزول کا لفظ بولا جاتا ہے اور جب زمانہ کچھ سدھرا ہوا ہو تو بعثت کا لفظ اس کے موزوں ہوتا ہے۔ ( قبل از عشاء ) الهام فرمایا کہ یہ الفاظ الہام ہوئے ہیں ۔ مگر معلوم نہیں کہ کس کی طرف اشارہ ہے۔ بلا نازل یا حادث یا“ یاد نہیں رہا کہ یا کے آگے کیا تھا۔ رویا کا معاملہ بھی عجیب ہے پیچ در پیچ بات ہوتی ہے اور الگ الگ رنگ ہوتا ہے۔ صحابہ کرام کی شہادت کو آنحضرت نے گائیوں کے ذبح ہونے کے رنگ میں دیکھا۔ حالانکہ خدا اس بات پر بھی قادر تھا کہ خواب میں خاص صحابہ ہی کو دکھلا دیتا۔ فرمایا۔ شیطان سے مراد مجسم تھے ہی نہیں ہوتی جیسے آج کل کے لوگ شیطان سے مُراد شیطان کے لفظ سے خیال کرتے ہیں کہ وہ کوئی لباس بھی پہنتا ہوگا بلکہ لو اس سے مراد شیطانی وساوس ہوتے ہیں یا کوئی شریر النفس آدمی کے البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۴