ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 147

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۷ جلد پنجم آوے اور یہی تزکیہ نفس کہلاتا ہے۔' اورادووظائف اور بندوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات واکرامات ہوتے ہیں وہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہی ہوتے ہیں۔ پیروں، فقیروں، صوفیوں گدی نشینوں کے خود تراشیده درود، وظائف، طریق و رسومات سب فضول بدعات ہیں جو ہرگز ہرگز ماننے کے قابل نہیں ۔ اگر یہ لوگ کل معاملات دنیوی و دینی کو ان خود ساختہ بدعات سے بھی درست کر سکتے ہیں تو یہ ذرا ذراسی بات پر کیوں تکرار کرتے لڑتے جھگڑتے حتی کہ سرکاری عدالتوں میں جائز و نا جائز حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔ یہ سب باتیں دراصل وقت کا ضائع کرنا اور خدا داد دماغی استعدادوں کا تباہ کرنا ہے۔ انسان اس لیے نہیں بنایا گیا کہ لمبی تسبیح لے کر صبح و شام تمام لوازمات و حقوق کو تلف کر کے بے تو جہگی سے سبحان اللہ سبحان اللہ میں لگا ر ہے ۔ اپنا اوقات گرامی بھی تباہ کرے اور خود اپنے قومی کو تباہ کرے اور اوروں کے تباہ کرنے کے لیے شب و روز کوشاں رہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی معصیت سے بچاوے۔ الغرض یہ سب باتیں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ نے سے پیدا ہوئیں ۔ یہ حالت ایسی ہے جیسے پھوڑا کہ اندر سے تو پیپ سے بھرا ہوا ہے اور باہر سے شیشے کی طرح چمکتا ہے۔ زبان سے تو ورد و وظائف کرتے ہیں اور اندرونے بدکاری و گناہ سے سیاہ ہوئے ہوئے ہیں ۔ انسان کو چاہیے کہ سب کچھ خدا سے طلب کرے۔ جب وہ کسی کو کچھ دے دیتا ہے تو اس کی بلندشان کے خلاف ہے کہ واپس لے۔ تزکیہ وہی ہے جو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ذریعہ دنیا میں سکھایا گیا، پیدا کیا گیا۔ یہ ل البدر میں ہے۔ اسی کا نام تزکیہ نفس ہے ں ہے جب یہ ہو جاتا ہے تو انسان فلاح پاتا ہے اور اپنے سلوک کا انتہا کر دیتا ہے اس کے علاوہ اور جو انعامات اور اکرامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدمی کو ملتے ہیں وہ سب اس کے فضل سے مل سکتے ہیں۔ جیسے بنیا ہر روز اپنی کتاب پر حساب لکھتا ہے اور اسے کبھی نہیں بھولتا۔ اسی طرح مومن کو چاہیے کہ ہر وقت اپنا حساب یادرکھے اور جب گناہ سرزد ہو تو اس سے کشتی کرے اور ہر وقت اس فکر میں رہے کہ گناہ سے بچایا جاوے اس طریق سے انسان گناہ سے بچ سکتا ہے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵۳)