ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 146

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۶ جلد پنجم ضعف بشریت سے سہو و گناہ کر بیٹھتا ہے اور پھر ذرہ بھی اس کی پروا نہیں کرتا تو دل پر سیاہ زنگ بیٹھ جاتا اور اور رفتہ رفتہ قلب انسانی کہ خشیت الہی سے گداز اور شفاف تھا سخت اور سیاہ ہوتا جاتا ہے۔ لے مگر انسان اپنی مرضِ قلب کو معلوم کر کے اس کی اصلاح کے درپے ہوتا ہے اور شب و روز نماز دعائیں، استغفار وزاری و قلق جاری رکھتا ہے اور اس کی دعا ئیں انتہا کو پہنچتی ہیں تو تجلیات الہی اپنے فضل کے پانی سے اس ناپاکی کو دھو ڈالتی ہیں اور انسان بشرطیکہ ثابت قدم رہے ایک قلب لے کر نئی زندگی کا جامہ پہن لیتا ہے گویا کہ اس کا تولد ثانی ہوتا ہے۔ دو زبر دست لشکر ہیں جن کے درمیان انسان چلتا ہے ایک لشکر رحمن کا دوسرا شیطان کا ۔ اگر یہ لشکر رحمن کی طرف جھک جاوے اور اس سے مدد طلب کرے تو اس سے بحکم الہی مدد دی جاتی ہے اور اگر شیطان کی طرف رجوع کیا تو گنا ہوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہے پس انسان کو چاہیے کہ گناہ کی زہریلی ہوا سے بچنے کے لئے رحمن کی حفاظت میں ہو جاوے۔ وہ چیز جو انسان اور رحمن میں ڈوری اور تفرقہ ڈالتی ہے وہ فقط گناہ ہی ہے جو اس سے بچ گیا اس نے اللہ تعالیٰ کی گود میں پناہ لی۔ دراصل گناہ سے بچنے کے لیے دو ہی طریق ہیں ۔ اوّل یہ کہ انسان خو انسان خود کوشش کرے۔ سے دوسرے اللہ تعالیٰ سے جو زبردست مالک و قادر ہے استقامت طلب کرے یہاں تک کہ اسے پاک زندگی میسر بات ل البدر سے ۔ ”جب انسان گناہ کر لیتا ہے اور وہ اس کی کوئی پروا نہیں کرتا تو دل سخت ہو جاتا ہے اور جب دل سخت ہو جاوے تو پاک نہیں ہوا کرتا جب تک کہ پھر نرم نہ ہو اور نرم نہیں ہوتا جب تک کہ نمازوں میں دعائیں نہ کرے۔ انسان تو بہ پر توبہ کر کے توڑ دیتا ہے اور اس پر کار بند نہیں ہو سکتا جب تک خدا تعالیٰ ساتھ نہ ہو۔ اس پر قدرتی طور پر یہ سوال ہوتا ہے کہ پھر گناہ کا علاج کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ سچی خشوع اور خضوع پیدا کرو اور اپنی دعاؤں کو انتہا تک پہنچاؤ۔ انبیاء علیہم السلام بھی دعائیں ہی کیا کرتے تھے ۔“ ( البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵۳) البدر میں ہے۔ اگر یہ خدا تعالیٰ کے لشکر کی طرف جھک جاوے اور اس سے مدد طلب کرے تو اس گناہ سے بچایا جاتا ہے جو کہ شیطان کے لشکر کی وجہ سے اس سے سرزد ہونا ہوتا ہے اور اگر خدا کے لشکر کی مدد حاصل نہیں کرتا تو شیطان کے لشکر میں پھنس جاتا ہے ۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۰ رجلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه (۱۵۳) سے البدر میں ہے۔ اول یہ کہ انسان خود کوشش کرے لیکن یہ کوشش ناکافی ہوا کرتی ہے ۔“ 66 البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵۳)