ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 145

ملفوظات حضرت مسیح موعود ( مجلس قبل از عشاء ) ۱۴۵ اپنی صداقت پر گفتگو فرماتے رہے اور اس امر پر ذکر فرمایا کہ جلد پنجم خدا جھوٹے سے اتنا عرصہ دراز یارانہ نہیں لگایا کرتا اگر ہم مفتری ہوتے تو آج تک تباہ اور ہلاک ہو جاتے۔ پیشگوئیوں کے ہمیشہ دو حصے ہوا کرتے ہیں اور آدم سے اس وقت تک بینات و متشابہات یہی تقسیم چلی آرہی ہے کہ ایک حصہ متشابہات کا ہوا کرتا ا کرتا ہے اور ایک حصہ بینات کا ۔ اب حدیبیہ کے واقعات کو دیکھا جاوے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان تو سب سے بڑھ کر ہے مگر علم کے لحاظ سے میں کہتا ہوں کہ آپ کا سفر کرنا دلالت کرتا تھا کہ آپ کی رائے اسی طرف تھی کہ فتح ہو گی ۔ نبی کی اجتہادی غلطی جائے عار نہیں ہوا کرتی ۔ اصل صورت جو معاملہ کی ہوتی ہے وہ پوری ہو کر رہتی ہے انسان اور خدا میں یہی تو فرق ہے۔ ۲۵ رمتی ۱۹۰۳ء ( در بار شام) تزکیه نفس لو ایک استفسار کے جواب میں کہ آج کل کے پیر اور گدی نشین وظائف وغیرہ مختلف قسم کے اور اد بتاتے ہیں ۔ آپ کا کیا ارشاد ہے؟ فرمایا کہ مومن جو بات سچے یقین سے کہے وہ ضرور مؤثر ہوتی ہے ہے کیونکہ مومن کا مطہر قلب اسرار الہی کا خزینہ ہے جو کچھ اس پاک لوح انسانی پر منقش ہوتا ہے وہ آئینہ خدا نما ہے۔ مگر انسان جب ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۷ ۱۴ البدر میں ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: (۴) یں ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ مومن جو بات یقین سے کہے وہ! کہے وہ پوری ہو جاتی ہے لفظوں کی پابندی اس میں ضروری نہیں ۔ ہاں انسان کو یہ آیت قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَلهَا (الشمس : ١٠) ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ گناہ سے بچار ہے۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخه ۵ رجون ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵۳)