ملفوظات (جلد 5) — Page 144
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۴ جلد پنجم دل پر تصرف کر کے اس میں دھس جاتی ہے اور انسان کو سمجھ آجاتی ہے۔ آنحضرت کے زمانہ کی حالت اور تھی اس وقت لوہے سے اور طرح کام لیا گیا تھا اب ہم بھی لوہے سے ہی کام لے رہے ہیں مگر اور طرح سے کہ لوہے کے قلموں سے رات دن لکھ رہے ہیں ۔ میری رائے یہی ہے کہ تلوار کی اب کوئی ضرورت نہیں ۔ عیسائی بھی جہالت میں ڈوبے ہیں اور مسلمان بھی ۔ حکمت الہی چاہتی ہے کہ رفق اور محبت سے سمجھا یا جاوے مثلاً ایک ہندو ہے اگر دس میں مسلمان ڈنڈے لے کر اس کے پیچھے پڑ جاویں تو وہ ڈر کے مارے لا اله الا اللہ تو کہہ دے گا لیکن اس کا کہنا ایسا بو دا ہو گا کہ بالکل مفید نہیں ہو سکتا اور رفق اور محبت سے سمجھا یا جاوے تو وہ دل میں جم جاوے گا حتی کہ اگر اس کو زندہ آگ میں بھی پھونک دو تو بھی وہ اس کے کہنے سے باز نہ آوے گا ۔ اسْلَمْنَا (الحجرات: ۱۵) ہمیشہ لاٹھی سے ہوتا ہے اور امنا اس وقت ہوتا ہے جب خدا دل میں ڈال دے۔ ایمان کے لوازم اور ہوتے ہیں اور اسلام کے اور ، اسی لیے خدا نے اس وقت ایسے لوازم پیدا کئے کہ جن سے ایمان حاصل ہو مسلمان تو اپنی موجودہ حالت کے لحاظ سے خود اس قابل ہیں کہ انہی سے جہاد کیا جاوے اب تو وہ زمانہ ہے کہ بچوں کی طرح دین کی باتیں لوگوں کو سمجھائی جاویں۔ ۱۹ رمئی ۱۹۰۳ء (بعد نماز فجر) حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایک رؤیا اور الہام ۱۲ بجے کے قریب میں نے ایک رویا میں دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ یہ فتح ہو گئی۔ بار بارا سے تکرار کرتا ہے گویا کہ بہت سی فتوحات کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد طبیعت وحی کی طرف منتقل ہوئی اور الہام ہوا ۔ مجموعہ فتوحات ۔ ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴۶، ۱۴۷