ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 143

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۳ جلد پنجم کسر صلیب کا دروازہ کھل گیا ہے“ کر چکے ہیں اس پر ذکر ہوتے ہوئے فرمایا کہ لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي اَصْحٰبِ السَّعِيرِ ( الملك :۱۱) سے معلوم ہوتا ہے کہ سماع اور عقل انسان کو ایمان کے واسطے جلد تیار کر دیتی ہے۔ ہماری قوم میں نہ سماع ہے نہ عقل ہے۔ دل میں یہی ٹھانی ہوئی ہے کہ تردید کریں پیشگوئیوں کو جھوٹا ثابت کریں نص اور اخبار کی تکذیب کریں۔ کشوف وغیرہ جو اولیائے کرام کے ہماری تائید میں ہیں ان سب کو جھوٹا کہہ دیں۔ غرضیکہ یہ سماع کا حال ہے۔ اب عقل کا سن لو کہ نظائر پیش نہیں کر سکتے کہ کوئی اس امر کا ثبوت دیں کہ سوائے مسیح کے اور بھی کچھ آدمی زندہ آسمان پر گئے ایک بات کو دیکھ کر دوسری کو پیدا کرنا اس کا نام عقل ہے سو اس کو انہوں نے ہاتھ سے دے دیا ہے دونوں طریق ( سماع اور عقل ) قبول حق کے تھے سو وہ دونوں کھو بیٹھے مگر یہ لوگ (اہل امریکہ و یورپ ) غور کرتے ہیں اگر چہ سب نہیں کرتے مگر ایسے پائے تو جاتے ہیں جو کرتے ہیں جس حال میں کہ وہ مانتے ہیں کہ مسیح کے دوبارہ آنے کا زمانہ یہی ہے اور اس کی موت کے بھی قائل ہیں تو دیکھ لو کہ وہ لوگ کس قدر قریب ہیں۔ اس قوم کا اقبال اب بڑھ رہا ہے اور مسلمانوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ دن بدن گرتے جاتے ہیں اور وہ منتظر ہیں کہ مسیح اور مہدی آتے ہی تلوار اٹھا لیوے گا اور خون کی ندیاں بہادے گا ۔ کمبخت دیکھتے نہیں کہ مسلمانوں کے پاس نہ تو فنونِ حرب ہیں نہ ان کے پاس ایجاد کی طاقت ہے نہ استعمال کی استعداد ہے۔ جنگی طاقت نہ بحری ہے نہ بری تو یہ زمانہ ان کے منشا کے موافق کیسے ہو سکتا ہے اور نہ خدا کا یہ ارادہ ہے کہ جنگ ہو، کیا تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں کو یہ سمجھ دے دیوے کیونکہ فہم ، دماغ اور اقبال کے ایام انہیں کے اچھے ہیں اصل علم وہی ہے جو خدا کے پاس ہے زمانہ وہی ہے جس کا وعدہ تھا مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ نکھے ، فاسق ، فاجر اور کاہل بھی ہیں تو پھر بجز اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ خدا اسی گروہ میں سے ایسے پیدا کر دے کہ وہ خود ہی سمجھ جاویں۔ خدا تعالیٰ کو توپ اور بندوق کی کیا حاجت ہے اس نے بندوں میں ہدایت پھیلانی ہے یا ان کو قتل کرنا ہے؟ زمانہ کی موجودہ حالت خود دلالت کرتی ہے کہ یہ زمانہ علمی رنگ کا ہے اگر کسی کو مار مار کر سمجھاؤ بھی تو وہ بات دل میں نہیں بیٹھتی لیکن اگر دلائل سے سمجھا یا جاوے تو وہ