ملفوظات (جلد 5) — Page 142
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۲ جلد پنجم ہوگا کہ ساری عمر دھکے کھاتے رہے صلیب پر چڑھنا بھی مشتبہ رہا ادھر ایک لمبا سلسلہ عمر اور سوانح کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیکھو کہ کیسے نصرت الہی شامل رہی ہر ایک میدان میں آپ کو فتح ہوئی کوئی گھڑی یاس کی آپ پر گذری ہی نہیں یہاں تک کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (الفتح:۲) کا وقت آگیا ان تمام نصرتوں میں کوئی حصہ بھی حضرت مسیح کا نظر نہیں آتا اس سے صاف ثابت ہے کہ محبت آنحضرت کی خدا سے زیادہ ہو نہ کہ مسیح کی کیونکہ آنحضرت پر اللہ تعالیٰ کے انعامات بکثرت ہیں اور اس لیے صرف آنحضرت کی یہ شان ہوسکتی ہو سکتی ہے کہ وہ آسمان پر زندہ ہوں ؟ جو شخص نظارہ قدرت زیادہ دیکھتا ہے وہی زیادہ فریفتہ ہوا کرتا ہے۔ کرتا اور اب اگر مسیح آویں بھی تو اس میں اسلام کی اور خود مسیح کی بے عزتی ہے اسلام کی بے عزتی اس طرح کہ کہنا پڑے گا کہ خاتم النبیین کے بعد ایک اور پیغمبر اسرائیلی آیا اور مسیح کی بے عزتی اس طرح کہ ان کو آکر انجیل چھوڑنی پڑے گی ۔ لو ۱۸ رمئی ۱۹۰۳ء ( مجلس قبل از عشاء) إِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ قرآن کی ایک پیشگوئی کا پورا ہونا مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا (بنی اسر آمیل: ۹۵۹) اسراءیل:۵۹) کوئی ایسا گاؤں نہیں مگر روز قیامت سے پہلے پہلے ہم اس کو ہلاک کر کے رہیں گے یا اس کو سخت عذاب دیویں گے قرآن میں یہ ایک پیشگوئی ہے۔ فرمایا کہ یہ اب پنجاب پر بالکل صادق آ رہی ہے بعض گاؤں تو اس سے بالکل تباہ ہو گئے ہیں اور بعض جگہ بطور عذاب کے طاعون جا کر پھر ان کو چھوڑ دیتی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے بلاد میں حضرت مسیح کی نسبت جو ایک انقلاب عظیم قوم کی حالت خیالات میں ہو رہا ہے اور جس کا ذکر ہم ” البدر کے ایک آرٹیکل بعنوان ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴۶