ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 141

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۱ کے ایک ماننے والوں کے پاس ہے تو ان کو ایمان سے کون سی تھے روک سکتی ہے؟ ۱۴ رمئی ۱۹۰۳ء (بوقت ظهر) جلد پنجم ایک ذکر پر فرمایا کہ نجات کے واسطے اعمال کی ضرورت ہے صدق اور عاجزی کام آتی ہے مگر یہ سی کا اختیار نہیں ہے کہ کسی کو ہاتھ ڈال کر سیدھا کر دیوے ہر ایک انسان کی نجات کے واسطے اس کے اپنے اعمال کا ہونا ضروری ہے بوستان میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک بادشاہ نے ایک اہل اللہ کو کہا کہ میرے لیے دعا کرو کہ میں اچھا ہو جاؤں اس نے جواب دیا کہ میرے ایک کی دعا کیا کام کرے گی جبکہ ہزاروں بے گناہ قیدی تیرے لیے بد دعا کرتے ہیں اس نے یہ سن کر تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ ( مجلس قبل از عشاء ) فرمایا کہ اس وقت صد با فرقہ ہیں اگر ایک الہی فرقہ بھی ہو گیا تو کیا حرج ہے؟ خدا معلوم کیوں ان لوگوں نے شور مچا رکھا ہے ۔۔۔۔ ہمارا خدا بائیس برس سے زیادہ سے ہماری امداد کر رہا ہے اور ان لوگوں کی کچھ پیش نہ گئی بد دعا کرتے کرتے ان کے ناک بھی گھس گئے اور ہمیں تجربہ ہے کہ ہمارا وہی خدا ہے جس کی کلام ہم پر نازل ہوتی ہے اب اس کے مقابل پر ان کے خلیات کس کام کے ہیں؟ جس حکم کے وہ منتظر ہیں آخر اس نے بھی آکر ایک ہی فرقہ بنانا ہے ان کی باتوں کا اکثر حصہ آکر وہ رد ہی کرے گا تو رڈ ہی ایک فرقہ بنا سکے گا پھر کیوں تقویٰ اجازت نہیں دیتا کہ ان کی باتیں رڈ کی جاویں ؟ رڈ کتاب اللہ ہمارے ساتھ ہے حدیث بھی پکی سے پکی ہمارے ساتھ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علیہ حضرت مسیح کو مردوں میں معراج کی رات میں دیکھ کر آئے ادھر خدا کی قولی شہادت ادھر آنحضرت کی فعلی شہادت کہ مسیح فوت ہو گئے ۔ قاعدہ کی بات ہے کہ محبت اور ایمان کے لیے اسباب ہوتے ہیں مسیح کی زندگی پر نظر کرو تو معلوم البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴۵