ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 140

ملفوظات حضرت مسیح موعود ( مجلس قبل از عشاء ) ۱۴۰ جلد پنجم فرمایا ۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ پابندی رسوم کا اثر ایمان پر ن ( ال عمران: (۳۲) اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی فرمانبرداری کی جاوے۔ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں کوئی مر جاتا ہے تو قسم قسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں حالانکہ ا چاہیے کہ مردہ کے حق میں دعا کریں۔ رسومات کی بجا آوری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی ۔ فرمایا کہ انسان کی وہ غلطی تو معاف ہو سکتی ہے جو کہ یہ نادانی سے کرتا ہے مثلاً آنحضرت کے زمانہ کے بعد فیج اعوج کے زمانہ میں طرح طرح کی غلطیاں پھیل گئیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ مسیح فوت نہیں : ت نہیں ہوئے اور اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں۔ (اس مقام پر حضرت اقدس نے مسیح کی وفات کے دلائل مختصر جامع طور پر بیان فرمائے ) اور پھر ان کے - بعد ایک تقریر اس مضمون پر فرمائی کہ ہماری جماعت سے کیوں بعض لوگ طاعون سے مر جاتے ہیں ۔ اور فرمایا کہ ہمیشہ انجام پر نظر چاہیے آخر کار مومن ہی کامیاب ہوتا ہے اور پھر ایک التباس بھی ہوتا ہے کہ جس پر ہر ایک کو ایمان لانا چاہیے اگر التباس نہ ہو تو ایمان ایمان نہیں ہو سکتا بعض کام تو اس لیے کئے جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت پوری ہو جاوے اور بعض اس لیے ظہور میں آتے ہیں کہ انسان تدبر کریں اگر التباس نہ ہوتا تو تدبر کرنے والوں کو ثواب کیسے حاصل ہوتا اور ایمان کے کیا معنے ہوتے ۔ اگر موت صرف ہمارے دشمنوں کے واسطے ہی ہو تو پھر کون بیوقوف ہے جو کہ ظاہری موت کو دیکھ کر مسلمان نہ ہو جاوے یوں تو لوگ بیشک خدا کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہیں مثلاً بعض ہند و قبروں کی بھی پوجا کرتے ہیں تو جب ایسے لوگ دیکھ لیویں کہ عافیت تو صرف خدا دیکھ