ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 139

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۹ جلد پنجم دیتا ہے اور اپنی عظمت کا غلبہ اس پر اس قدر کر دیتا ہے کہ بے جا کا موں اور ناکارہ حرکتوں سے وہ کوسوں بھاگ جاتا ہے۔ کیا سبب ہے کہ انسان باوجود خدا کو نہ ماننے کے بھی گناہ سے پر ہیز نہیں کرتا ؟ در حقیقت اس میں ایک دہریت کی رگ ہے اور اس کو پورا پورا یقین و ایمان اللہ پر نہیں ہوتا ورنہ اگر وہ جانتا کہ کوئی خدا ہے جو حساب و کتاب لینے والا ہے اور ایک آن میں اس کو تباہ کر سکتا ہے تو وہ کیسے بدی کر سکتا ہے اس لیے حدیث شریف میں وارد ہے کہ کوئی چور چوری نہیں کرتا در آنحالیکہ وہ مومن ہے اور کوئی زانی زنا نہیں کرتا در آنحالیکہ وہ مومن ہے۔ بدکرداریوں سے نجات اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ یہ بصیرت اور معرفت پیدا ہو کہ خدا کا غضب ایک ہلاک کرنے والی بجلی کی طرح گرتا اور بھسم کرنے والی آگ کی طرح تباہ کر دیتا ہے تب عظمت الہی دل پر ایسی مستولی ہو جاتی ہے کہ سب افعال بداندر ہی اندر گداز ہو جاتے ہیں ۔ پس نجات معرفت میں ہی ہے معرفت ہی سے محبت بڑھتی ہے اس لیے سب سے اوّل نجات معرفت کا ہونا ضروری ہے۔ محبت کے زیادہ کرنے والی دو چیزیں ہیں حسن اور احسان جس شخص کو اللہ جل شانہ کا حُسن اور احسان معلوم نہیں وہ کیا محبت کرے گا ؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ (الاعراف: ۴۱) یعنی کفار جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر نہ جائے ۔ مفسرین اس کا مطلب ظاہری طور پر لیتے ہیں مگر میں یہی کہتا ہوں کہ نجات کے طلب گار کو خدا کی راہ میں نفس کے شتر بے مہار کو مجاہدات سے ایساد بلا کر دینا چاہیے کہ وہ سوئی کے ناکہ میں سے گزر جائے جب تک نفس دنیوی لذائذ و شہوانی حظوظ سے موٹا ہوا ہوا ہے تب تک یہ شریعت کی پاک راہ سے گزر کر بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ دنیوی لذات پر موت وارد کرو اور خوف و خشیت الہی سے دبلے ہو جاؤ تب تم گذر سکو گے اور یہی گذرنا تمہیں جنت میں پہنچا کر نجات اخروی کا موجب ہوگا ۔ ل الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۳ ، ۱۴ لو