ملفوظات (جلد 5) — Page 138
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۸ جلد پنجم طرح طرح کے عیوب مخفی رنگ میں انسان کے اندر ہی اندر ایسے رچ جاتے ہیں کہ اس سے نجات مشکل ہو جاتی ہے۔ انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے اپنے تئیں شامت اعمال سے بڑا سمجھنے لگ فروتنی اور عاجزی جاتا ہے۔ کبر اور رعونت اس میں آجاتی ہے اللہ کی راہ میں جب تیک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے چھٹکارا نہیں پاسکتا۔ کبیر نے سچ کہا ہے۔ ه بھلا ہوا ہم بیچ بھلے ہر کو کیا سلام جے ہوتے گھر اُونچ کے ملتا کہاں بھگوان یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم چھوٹے گھر میں پیدا ہوئے ۔ اگر عالی خاندان میں پیدا ہوتے تو خدا نہ ملتا۔ جب لوگ اپنی اعلیٰ ذات پر فخر کرتے تو کبیرا اپنی ذات بافندہ پر نظر کر کے شکر کرتا۔ پس انسان کو چاہیے کہ ہر دم اپنے آپ کو دیکھے کہ میں کیسا بیچ ہوں میری کیا ہستی ہے ہر ایک انسان خواہ کتنا ہی عالی نسب ہو مگر جب وہ اپنے آپ کو دیکھے گا بہر سہج وہ کسی نہ کسی پہلو میں بشرطیکہ آنکھیں رکھتا ہو تمام کائنات سے اپنے آپ کو ضرور بالضرور نا قابل و پیچ جان لے گا انسان جب تک ایک غریب و بیکس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جو ایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتا ہے یا برتنے چاہیے اور ہر ایک طرح کے غرور ، رعونت و کبر سے اپنے آپ کو نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ ہے دعا جس قدر نیک اخلاق ہیں تھوڑی سی کمی بیشی سے وہ بداخلاقی میں بدل جاتے ہیں۔ اللہ جل شانه نے جو دروازہ اپنی مخلوق کی بھلائی کے لیے کھولا ہے وہ ایک ہی ہے یعنی دعا۔ جب کوئی شخص بکا وزاری سے اس دروازہ میں داخل ہوتا ہے تو وہ مولائے کریم اس کو پاکیزگی و طہارت کی چادر پہنا وو ل البدر میں ہے۔ ” جب لوگ اپنی اپنی ذات پر فخر کرتے تو کبیر اپنی قوم چمار پر نظر کر کے شکر کرتا ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴۰) مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۴۰ ) لے اس کے آگے البدر میں مزید لکھا ہے ۔ ۔ اور اور قوتیں تو انسان کی کبھی کبھی غلبہ کرتی ہیں مگر گر رعونت اور نخوت ہر وقت اس پر سوار ہے۔“ 66 البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۴۰)