ملفوظات (جلد 5) — Page 137
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۷ جلد پنجم مومن چونکہ خدا تعالیٰ کی معرفت کا محتاج ہے اور ہر کوئی اس کی طرف نظر اٹھائے دیکھ رہا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے بھی یہ دروازہ پورے طور پر کھولا ہوا ہے جوں جوں انسان اس راہ میں کوشش کرے گا توں توں در رحمت اس پر کھلتا جاوے گا۔ دنیا میں بے انت ایسی چیزیں ہیں جس کی ہمیں خبر بھی نہیں پر ایسی چیزوں کے دریافت کے لئے سرگردان ہونا کون سی عقلمندی ہے ۔۔۔۔ کون سی چیز ہے جس کی تحقیق انسان نے پورے طور سے کر لی ۔ جو چیز اللہ جل شانہ نے انسان کے لیے چنداں مفید نہیں سمجھی وہ پورے طور پر انسان پر منکشف بھی نہیں ہوتی پس جو ہر ایک چیز کو دریافت کرنا چاہتا ہے وہ خدا بننا چاہتا ہے۔ جس راہ پر انسان پہنچ نہیں سکتا چاہیے کہ اسے چھوڑ دے۔ انسان کو جو کچھ دیا گیا ہے اس پر قانع رہے اگر یہ توقع رکھے کہ آسمان کے درخت کا پھل آوے تو میں کھاؤں حالانکہ اس کا ہاتھ وہاں پہنچ بھی نہیں سکتا تو وہ مجنون ہے ہاں جب اللہ تعالیٰ اس کی فطرت میں یہ قومی پیدا کر دے کہ آسمان تک پہنچ سکے تو کچھ مضائقہ نہیں کہ وہ آسمان ہی کے پھل بھی کھاوے۔ گناہ سے انسان کیسے بچ سکتا ہے اس کا علاج یہ تو بالکل نہیں گناہ سے کیسے بچ سکتے ہیں کہ عیسائیوں کی طرح ایک کے سر میں درد ہو تو دوسرا اپنے سر میں پتھر مارلے اور پہلے کا دردسر دور ہو جاوے دراصل انسان کا حد اعتدال سے گزر جانا ہی گناہ کا موجب ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ بات پھر عادت میں داخل ہو جاتی ہے اور یہ سوال کہ یہ عادت کیوں کر دور ہو سکتی ہے؟ اکثر لوگوں کا اعتقاد ہے کہ یہ عادت دور نہیں ہو سکتی اور عیسائیوں کا تو پختہ یقین وایمان ہے کہ عادت یا فطرت ثانی ہرگز دور نہیں ہو سکتی اور نہ بدل سکتی ہے۔ مسیح کے کفارہ کو مان کر بھی یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ انسان گناہ سے بالطبع نفرت کرنے لگ جائے۔ نہیں البتہ اس کفارہ کے طفیل اُخروی عذاب سے نجات پا جائے گا۔ یہی اعتقاد ہے جو رکھنے سے انسان خلیج الرسن ہو کر بدکاریوں اور ناسزا وارا مور میں دل کھول کر ترقی کرتا ہے۔ ہماری جماعت کو اس پر توجہ کرنی چاہیے کہ ذرا سا گناہ خواہ کیسا ہی صغیرہ ہو جب قابل توجه گردن پر سوار ہوگیا تو رفت رفتہ انسان کبیرہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔ کو