ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 136

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۶ جلد پنجم میں رضاء الہی پر چلنا چاہیے اور کار خانہ الہی میں دخل در معقولات نہیں دینا چاہیے۔ تقویٰ اور طہارت، اطاعت و وفا میں ترقی کرنی چاہیے اور یہ سب باتیں تب ممکن ہیں جب انسان کامل ایمان اور یقین سے ثابت قدم رہے اور صدق و اخلاص اپنے مولا کریم سے دکھلائے اور وہ باتیں جو علم الہی میں مخفی ہیں اس کے کنہ کے معلوم کرنے میں بے سود کوشش نہ کرے مثلاً ہلیلہ قبض کو دور کرتی ہے اور سم الفار ہلاک کرتا ہے اب کیا ضرورت پڑی ہے کہ بے فائدہ اس دھت میں بھاگے پھرے کہ کون سی شے ہے جو یہ اثر کرتی ہے۔ طبیب کا کام ہے کہ ان کے خواص کو معلوم کرے اور یہ سوال کہ کیوں یہ خواص پیدا ہو گئے حوالہ بخدا کرے جو شخص ہر ایک چیز کے خواص و ماہیت دریافت کرنے کے پیچھے لگ جاتا ہے وہ نادانی سے کارخانہ ربّی اور اس کے منشا سے بالکل ناواقف و نابلد ہے۔ اگر کوئی کہے کہ شیطان وملائکہ دکھلاؤ تو کہنا چاہیے کہ تمہارے اندر یہ خواص ملائکہ اور شیطان کہ بیٹھے بٹھائے آناً فاناً بدی کی طرف متوجہ ہو جانا یہاں تک کہ خدا تعالی کی ذات سے بھی منکر ہو جانا اور کبھی نیکی میں ترقی کرنا اور انتہا درجہ کی انکساری و فروتنی و عجز و نیاز میں گر جانا یہ اندرونی کششیں جو تمہارے اندر موجود ہیں ان سب کے محرک جو قوئی ہیں وہ ان دو الفاظ ملک و شیطان کے وجود میں مجسم ہیں ۔ سعادت اس میں ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایمان لایا جاوے اور اس کو حاضر و ناظر یقین کیا جاوے اور اس کی عین موجودگی کا تصور دل میں رکھ کر ہر ایک بدی اور ناراستی سے پرہیز کیا جاوے۔ یہی بڑی دانش و حکمت ہے اور یہی معرفت الہی کا سیراب کرنے والا شیر میں سوتہ ہے جس سے اور جس کے لیے اہل اللہ ایک ریگستان کے پیاسے کی طرح آگے بڑھ کر خوش مزگی سے پیتے ہیں اور یہی وہ آب کوثر ہے جو مولائے کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے اپنے اولیاء اصفیا کو پلاتا ہے۔ ل البدر سے ۔ انسان کو ان باتوں کی کنہ دریافت کرنے میں نہ پڑنا چاہیے تقوی اور اطاعت میں ترقی کرنی چاہیے تو اس طرح خدا خود اس کی تسلی کر دے گا۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۴۰) ۱۹ صفحه ۱۴۰)