ملفوظات (جلد 5) — Page 129
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۹ جلد پنجم فائدہ پہنچا۔ لیکن ابھی تو مینار خیالی پلاؤ ہے جوں جوں روپیہ آوے گا بنتا ر ہے گا جب وہ مکمل ہو جاوے اور پھر کوئی اعتراض کی بات ہو تو اعتراض ہو سکتا ہے۔ میں ایسا فعل کیوں کرنے لگا جس سے اوروں کو بھی نقصان ہو اور مجھے بھی ۔ ہماری پردہ داری سب سے اعلیٰ ہے۔ اگر کوئی مینار پر چڑھے گا تو جیسے اوروں کے گھر میں نظر پڑ سکتی ہے ویسی ہی ہمارے گھر میں بھی پڑ سکتی ہے تو کیا ہم گوارا کریں گے کہ یہ بات ہو؟ بہر حال جب یہ بن جاوے گا تو لوگ سمجھ لیویں گے کہ ان کو اس سے کس قدر فائدہ ہے۔ اے بلا تاریخ اچھوتا نکتہ عبادت اور احکام الہی کی دو شاخیں ہیں۔ تعظیم لأمر الله اور ہمدردی مخلوق ۔ میں سوچتا تھا کہ قرآن شریف میں تو کثرت کے ساتھ اور بڑی وضاحت سے ان مراتب کو بیان کیا گیا ہے مگر سورۃ فاتحہ میں ان دونوں شقوں کو کس طرح بیان کیا گیا ہے میں سوچتا ہی تھا کہ فی الفور میرے دل میں یہ بات آئی کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدين (الفاتحة : ۲ تا ۴) سے ہی یہ ثابت ہوتا ہے یعنی ساری صفتیں اور تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جو رب العالمین ہے یعنی ہر عالم میں ، نطفہ میں ، مضغہ وغیرہ میں سارے عالموں کا رب ہے۔ پھر رحمن ہے پھر رحیم ہے اور ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہے اب اس کے بعد إِيَّاكَ نَعْبُدُ جو کہتا ہے تو گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت ۔ رحمانیت ، رحیمیت ، مالکیت یوم الدین کی صفات کا پر تو انسان کو اپنے اندر لینا چاہیے کیونکہ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللہ میں رنگین ہو جاوے پس اس صورت میں یہ دونوں امر بڑی وضاحت اور صفائی سے بیان ہوئے ہیں۔ ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۳۸ ، ۱۳۹