ملفوظات (جلد 5) — Page 128
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۸ جلد پنجم خیال بالکل غلط ہے کہ لوگ اس پر چڑھ کر چار پائیاں بچھاویں گے کیونکہ ایک تو وہ مخروطی شکل کا ہوگا اور گھنٹہ کی وجہ سے اسے بند رکھا جاوے گا کہ لوگ چڑھ کر اسے خراب نہ کر دیویں۔ مجھے حیرت ہے کہ یہاں کے ہندوؤں کے ساتھ ہم نے آج تک برادرانہ برتاؤ رکھا ہے اور یہ لوگ ہمارے مینار کی تعمیر پر اس قدر جوش و خروش ظاہر کر رہے ہیں۔ اس مسجد کو ہمارے مرزا صاحب (والد صاحب ) نے سات نشور و پیر کو خریدا تھا اور اس مینار کی تعمیر میں صرف مسجد ہی کے لیے مفید بات نہیں ہے بلکہ عوام کو بھی فائدہ ہے۔ یہ خیال کہ اس سے بے پردگی ہو گی یہ بھی غلط ہے۔ اب ہمارے سامنے ڈپٹی شنکر داس صاحب کا گھر ہے اور اس قدر اونچا ہے کہ آدمی او پر چڑھے تو ہمارے گھر میں اس کی نظر برابر پڑتی ہے تو کیا اب ہم کہیں کہ اسے گرادیا جاوے؟ بلکہ ہم کو چاہیے کہ اپنا پر دہ خود کر لیویں ۔ ان لوگوں کو چاہیے تھا کہ مذہبی امور میں ہم سے دلبستگی ظاہر کرتے اور اس امر میں ہماری امداد کرتے اگر یہ لوگ اپنا معبد بلند کرنا چاہیں تو کیا ہم اسے روک سکتے ہیں ؟ یہ خیال کہ مسجد یہاں ہو اور مینار کہیں باہر ہو ایک قسم کی ہنسی ہے اور اس وقت قبولیت کے قابل ہے کہ اول مسجد باہر نکال دی جاوے پھر پھر مینا مینار بھی باہر ہو جاوے گا گا اور یہ یہ قبر ہمارے مرزا صاحب کی دی جاوے پر ہے انہوں نے نزول سے زمین خرید کر اس مسجد و تعمیر کرایا تھا اور اپنی موت سے ۲۲ دن پہلے اپنی اس قبر کا نشان بتلایا کہ اس جگہ ہو ۔ مجھے ان لوگوں پر بار بار افسوس آتا ہے کہ ہمارے دل میں تو ان کی ہمدردی ہے۔ بیماریوں میں ہم ان کا علاج کرتے ہیں۔ ہر ایک ان کی مصیبت میں شریک ہوتے ہیں۔ انہی سے پوچھا جاوے کہ کبھی ان کے مذہبی معاملات میں میں نے ان سے نقیض کی ہے؟ دنیاوی معاملات تو الگ ہوتے ہیں لیکن مذہبی معاملات میں شرافت کا برتاؤ ہوا کرتا ہے۔ ان کو لازم تھا کہ ایسی باتیں نہ کرتے جو آپس کی شکر رنجی کا موجب ہوتیں۔ اس مینار کی بنیاد پر گیارہ سو روپیہ خرچ آیا ہے اور تین برس سے اس کا ابتدائی کام شروع ہے چنانچہ الحکم“ میں اس کا اعلان موجود ہے اگر سے ہمارا چار ہزار روپیہ کا نقصان ہو اور پھر ان کو یہ رو پیدل جاوے تو بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ خیر ہمسائیوں کو لے نقل مطابق اصل