ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 127

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۷ جلد پنجم نسبت کھل کر بات نہیں کرتے کیونکہ اس پر ہنسی کی جاوے گی جب خدا تعالیٰ اس کا پورا دورہ خود ختم کرے گا تو اس وقت آپ ہی لوگوں کو پتا لگ جائے گا۔ اطباء نے لکھا ہے کہ جب موسم جاڑے یا گرمی کی طرف حرکت کرتا ہے تو اس وقت یہ زیادہ ہوتی ہے مگر ابھی تو موسم اتنی شدت گرمی کا نہیں ہے لیکن اگر مئی کے گذرنے پر یہی حال رہا تو شاید یہ قاعدہ بھی ٹوٹ جاوے مگر اصل بات کا علم تو خدا تعالیٰ ہی کو ہے۔ اکثر جگہ چوہے کثرت سے مرتے ہیں تو وہاں طاعون کا اندیشہ ہوتا ہے مگر خدا کے فضل سے ہمارے گھر میں دو بلیاں ہیں اور وہ کوئی چوہا نہیں چھوڑتیں شاید یہ بھی خدا کی طرف سے ایک علاج ہو۔ سوال ہوا کہ پھر اس کا علاج کیا ہے؟ طاعون کا حقیقی علاج فرمایا۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ بجز تقویٰ طہارت اور رجوع الی اللہ کے اور کوئی چارہ نہیں گو لوگ اسے دیوانہ پن سمجھتے ہیں مگر بات یہ ہے کہ یہ دنیا خود بخود نہیں ہے ایک خالق اور مدبر کے ماتحت یہ چل رہی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ زمین پر پاپ اور گناہ بہت ہو گیا ہے تو وہ تنبیہ نازل کرتا ہے اور جب رجوع الی اللہ ہو تو پھر اسے اٹھا لیتا ہے لیکن دیکھا جاتا ہے کہ لوگ بہت بیباک ہیں اور ان کو ابھی تک کچھ پروانہیں ہے۔ ہوا بول منارہ المسیح کی غرض والا ہوا کہ ان کی روایا جاتا ہے؟ فرمایا کہ اس مینار کی تعمیر میں ایک یہ بھی برکت ہے کہ اس پر چڑھ کر خدا کا نام لیا جاوے گا اور جہاں خدا کا نام لیا جاتا ہے وہاں برکت ہوتی ہے۔ چنانچہ آج کل اسی لیے سکھوں نے بھی اذانیں دلوائی ہیں اور مسلمانوں کو اپنے گھروں میں بلا کر قرآن پڑھوایا ہے۔ پھر اس کے اوپر ایک لالٹین بھی نصب کی جاوے گی۔ جس کی روشنی دُور دُور تک نظر آوے گی ۔ سنا گیا ہے کہ روشنی سے بھی طاعونی مواد کا دفعیہ ہوتا ہے اور ایک گھنٹہ بھی اس پر لگا یا جاوے گا۔ اس کی بلندی کی نسبت ہم کہہ نہیں سکتے ابھی سرمایہ نہیں ہے۔ سرمایہ پر دیکھا جاوے گا کہ کس قدر بلند ہوگا یہ