ملفوظات (جلد 5) — Page 124
ملفوظات حضرت مسیح موعود اله لد جلد پنجم ان کو مغالطہ لگا ہے ایسا ہر گز ہو نہیں سکتا اگر چہ ایک حد تک خدا نے وعدے کئے ہوئے ہیں مگر ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جماعت سے مطلقاً کوئی بھی نشانہ طاعون نہ ہو۔ یہ بات ہماری جماعت کو خوب یا د رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہر گز نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی بھی نہ مرے گا۔ ہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸) پس جو شخص اپنے وجود کو نافع الناس بناویں گے ان کی عمریں خدا زیادہ کرے گا خدا تعالیٰ کی مخلوق پر شفقت بہت کرو اور حقوق العباد کی بجا آوری پورے طور پر بجالانی چاہیے۔ نوٹ اور مسیح موعود کے حالات کا فرق اعتراض ہوا کہ نوح کی کشتی میں چڑھنے والے سب کے سب طوفان سے محفوظ رہے تھے تو کیا وجہ ہے جو لوگ یہاں بیعت میں ہیں وہ محفوظ نہ رہیں ۔ جواب۔ فرمایا کہ ہمارا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ کے قدم بر قدم ہے نوٹ کے وقت ایمان کا دروازہ بند ہو چکا تھا اور اس وقت کوئی التباس ایمان کا نہ تھا مگر اب ہے نوح کے وقت یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ اب قوم تو ضرور ہلاک ہونے والی ہے خواہ ایمان لاوے خواہ نہ لاوے مگر آنحضرت کے وقت مہلت دی گئی کہ جو تو بہ کرے گا وہ بچ جاوے گا ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عین قتل کے وقت فرمایا کہ اگر کوئی ایمان لاوے تو تلوار روک لی جاوے مگر نوح کی قوم کے واسطے تھا کہ صرف کشتی والے بچائے جاویں گے باقی سب تباہ اور ہلاک ہوں گے وہ صورت خاص اور الگ تھی اور اعتراض تو خود نوح پر بھی تھا کہ اس نے کہا تھا کہ میرے اہل بچے رہیں گے مگر پھر بھی مخالفوں کو یہ کہنے کی گنجائش رہی کہ نوح اپنے بیٹے کو نہ بچا سکا۔ معلوم ہوتا ہے کہ نوح کو بھی شبہ پیدا ہوا تھا تب ہی تو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے زجر ہوا۔ پھر دیکھو باوجود نبی ہونے کے ان کو دھوکا لگا اور یہ معاملہ اس طرح سے ہوا کہ مخالف تو در کنار خود نوح کو ہی شکوک پیدا ہو گئے ۔ خدا تعالیٰ اپنے رعب اور خوف کو دور نہیں کرنا چاہتا اگر آج وہ کھلا وعدہ دے دے کہ جماعت میں سے کوئی نہ مرے گا تو پھر اس کا خوف